Al-Risala · June 2010 · page 28

اتباعِ یہودیت

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۲۸

اتباعِ یہودیت

موجودہ زمانے کے یہودیوں کی سب سے بڑی تحریک وہ ہے جس کو صیہونیت (Zionism) کہا جاتا ہے۔ یہ تحریک 1897 میں شروع ہوئی۔ اس کا مقصد تھا_ فلسطین میں دوبارہ یہودی ریاست قائم کرنا:

Zionism: Political and cultural movement seeking to re-establish Jewish national state in Palestine. دوسرے لفظوں میں یہ کہ صیہونیت، زمین مرکزی سیاست (land-based politics) کا دوسرا نام ہے۔ موجودہ زمانے کے یہودی اپنی تمام طاقت، اپنا تمام سرمایہ، اپنے تمام وسائل اس سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان، حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، اسی یہودی اُسوہ کا اتباع کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سرگرمی براہِ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر اسی مبنی بر زمین سیاست (land-based politics) کا نمونہ ہے۔ ہر جگہ کے مسلمانوں نے اسی قسم کی تحریک چلائی کہ وہ زمین کے ایک خطے پر قبضہ کریں اور وہاں اپنی حکومت قائم کریں۔ پاکستان، فلسطین، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، اراکان، فلپائن، سنکیانگ، وغیرہ۔ ساری دنیا کے مسلمان اس مبنی بر زمین سیاست میں یا تو عملاً شریک ہیں، یا وہ اس انداز میں سوچتے ہیں، یا اپنی تقریر اور تحریر میں اسی کا چرچا کرتے ہیں۔ یہ بلاشبہ یہودی طریقہ کا اتباع ہے۔ اس قسم کے قومی اور سیاسی جھگڑے، خواہ وہ اسلام کے نام پر کٹے جائیں، لیکن وہ اسلام نہیں۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلامی سیاست ہے۔ وہ دین کے نام پر بے دینی کی سرگرمیاں ہیں۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس قسم کی قومی اور سیاسی سرگرمی کو مطلق طور پر ترک کر دیں، وہ اپنے ملی عمل کی از سرِ نو منصوبہ بندی کریں۔ اس قسم کی قومی سیاست کا کوئی مثبت انجام نہ اب تک بر آمد ہوا ہے اور نہ آئندہ بر آمد ہونے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page