ڈسپلن کی اہمیت
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۳۵
سوال و جواب سوال میں آپ کے قول وفکر سے بہت متاثر رہا ہوں۔ یہ اس بنا پر کہ میں نے آپ کی تحریر کی ہوئی باتیں آپ کے ماہنامہ الرسالہ میں پڑھی ہیں۔ میں نے آپ کی بتائی ہوئی اچھی باتیں دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن میں نے پایا ہے کہ میرے اطراف کے لوگوں میں کچھ لوگ آپ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے۔ جب میں نے ان سے وجہ دریافت کی تو وہ مجھے کوئی قابل قبول وجہ نہیں بتا سکے۔ صرف سنی سنائی باتوں کا ایسے لوگ ذکر کرتے ہیں۔ میں ان سے کہتا رہا ہوں کہ وہ خود اپنا کوئی ذاتی تجربہ یا مشاہدہ بتائیں تو وہ بتانے سے قاصر رہے ہیں۔ اس طرح میں ان کو نظر انداز کر کے خاموشی سے تعمیری سوچ اور کام میں لگا رہا ہوں۔
میرا ایک مشاہدہ آپ کے بارے میں ایسا ہوا ہے جو میری سمجھ سے غیر مناسب ہے اور آپ جیسی شخصیت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ کل کے اخبار (2009 ,7 .The Hindu, Aug) میں آپ آڈوانی صاحب کی لکھی ہوئی کتاب ”میرا وطن میری زندگی“ کے Release Function میں شامل ہیں۔ ایک طرح سے یہ اُس شخصیت کا endorsement ہے جس کی لکھی ہوئی یہ کتاب ہے۔ اس مصنف کی جو قدریں (values) ہیں، وہ اس کے قول اور اُس سے زیادہ اس کے عمل اور کردار سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کے بارے میں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ میرا تجربہ ہے اور دانش مندوں کی کہاوت ہے کہ خود غرض اور ظالم کی دوستی فائدہ مند نہیں ہوتی، خواہ وہ ظالم آپ پر مہربان ہو۔ ایسے لوگوں کے دعوت نامہ کو قبول کرنے سے پہلے اچھی طرح غور کرنا چاہئے۔ اگر کسی وجہ سے ایسی دعوت قبول کرنا بھی پڑے تو ایسے موقع پر اپنی بات پوری وضاحت اور مضبوطی سے کہنا چاہئے۔ تا کہ negative values کا endorsement نہ ہونے پائے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملہ میں آپ وضاحت کریں اور میری غلط فہمی دور کریں۔ (ایم اے صدیقی، کان پور)
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues