ڈسپلن کی اہمیت
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۳۶
جواب
اصل یہ ہے کہ کسی واقعہ کو دیکھنے کے دو زاویے (angles) ہوتے ہیں۔ ایک، مثبت زاویہ اور دوسرا منفی زاویہ۔ ایک واقعہ مثبت زاویہ سے دیکھنے میں صحیح واقعہ نظر آئے گا۔ اسی واقعہ کو دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو وہ منفی واقعہ بن جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صلح حدیبیہ پیش آیا۔ اس وقت ایک صحابی حضرت عمر فاروق نے منفی زاویہ سے دیکھا تو ان کو وہ پسپائی کا ایک واقعہ نظر آیا۔ انھوں نے کہا کہ: لم نعطی الدنیۃ فى دیننا (الأوسط فى السنن، رقم الحدیث: 244)۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے اس کو مثبت زاویہ سے دیکھا اور قرآن میں اعلان کیا گیا کہ یہ فتح مبین ہے (الفتح: 1)
آپ کی غلط نہی یہ ہے کہ آپ نے مذکورہ اجتماع میں میری شرکت کو دوستی کے زاویہ سے دیکھا اور اس کو صاحب کتاب کا endorsement سمجھ لیا۔ آپ کے لیے صحیح یہ تھا کہ آپ اس کو دعوت کے زاویہ سے دیکھتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ مذکورہ اجتماع میں میری شرکت ایک صحیح اور باعث ثواب معاملہ تھا۔ جو شخص بھی، ماہ نامہ الرسالہ اور اس کا خبر نامہ باقاعدگی کے ساتھ پڑھے تو اس کو معلوم ہوگا کہ مذکورہ واقعہ کوئی استثنائی واقعہ نہ تھا، بلکہ وہ بہت سے واقعات میں سے صرف ایک واقعہ تھا۔ میں اور میرے ساتھی دعوت الی اللہ کا مشن چلا رہے ہیں۔ یہ مشن ایک مبنی بر لٹریچر مشن ہے۔ ہم مسلسل یہ کر رہے ہیں کہ انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر ہونے والے اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں۔ وہاں ہم لوگوں کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم ہر مذہب اور ہر گروہ اور ہر پارٹی کے اجتماعات میں جاتے ہیں۔ اگر ہم آپ کے بیان کردہ زاویے سے چیزوں کو دیکھیں تو ہم دعوت کے مواقع (opportunities) کو استعمال نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں گناہ گار ثابت ہوں گے۔
ہمارا یہ طریقہ پیغمبر کی سنت کے عین مطابق ہے۔ حضرت یوسف نے قدیم مصر میں وہاں کے بادشاہ کے ایڈمنسٹریشن میں ایک ذمہ دارانہ عہدہ قبول کیا، حالاں کہ یہ بادشاہ ایک مشرک بادشاہ تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues