Al-Risala · January 2010 · page 2

پولینڈ کا سفر

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۲

پولینڈ کا سفر

ویٹکن (Vatican) کی سرپرستی میں ایک انٹرنیشنل مسیحی تنظیم قائم ہے۔ یہ تنظیم اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی تنظیم ہے۔ وہ 1986 میں قائم ہوئی۔ اس کا نام کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو (Community of St. Egidio) ہے۔ اس کا ہیڈ کوارٹر روم (اٹلی) میں ہے۔ اس تنظیم کی طرف سے ہر سال دنیا کے مختلف مقامات پر اجتماعات کئے جاتے ہیں۔ اس میں ہر مذہب کے نمائندے شرکت کرتے ہیں۔ اس سال یہ اجتماع پولینڈ کے شہر کریکو (Krakow) میں 8-6 ستمبر 2009 کو منعقد کیا گیا۔ اس کی دعوت پر پولینڈ کا سفر ہوا۔ اس کانفرنس کا موضوع یہ تھا: 70 Years After World War II Faiths and Cultures in Dialogue پولینڈ کا نام سب سے پہلے 1939 میں میرے علم میں آیا۔ اُس وقت میں اعظم گڑھ (باقی منزل) میں رہتا تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے ایک ہندو پرنسپل تھے۔ اُن کا نام مسٹر سگل دیپ سنگھ تھا۔ 18 ستمبر 1939 کی صبح کو وہ ایک انگریزی اخبار لے کر ہمارے یہاں آئے۔ یہ غالباً ڈیلی پائنیر (Pioneer) تھا جو اُس وقت الٰہ آباد (یوپی) سے نکلتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یورپ میں ایک بہت بڑی لڑائی چھڑ گئی ہے۔ جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر کے اُس پر قبضہ کر لیا ہے۔ میں نے دیکھا تو انگریزی اخبار کی پہلی سرخی یہ تھی:

Poland in German Hand

اُس زمانے میں یوپی کے علاقے میں پائنیر اخبار کی بہت دھوم تھی۔ مشہور شاعر اکبر الٰہ آبادی (وفات: 1921) نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا:

بات وہ ہے جو پائیر میں چھپے

یہ دوسری عالمی جنگ کا آغاز تھا۔ یہ جنگ 6 سال (1945-1939) تک جاری رہی اور پھر ہولناک تباہی کے بعد ختم ہوئی۔ اس جنگ میں تقریباً 6 ملین انسان مارے گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page