Al-Risala · January 2010 · page 3

No victors, only survivors

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۳

میں اُس وقت مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر، اعظم گڑھ) میں پڑھتا تھا۔ اُس وقت مجھے ٹکٹ (postage stamp) جمع کرنے کا شوق ہوا۔ غالباً پہلا بیرونی ٹکٹ پولینڈ کا تھا۔ ٹکٹ جمع کرنے کا یہ شوق مدرسے کی زندگی میں بالکل اجنبی تھا، لیکن مجھے اُس سے بہت فائدہ ہوا۔ ٹکٹ جمع کرنے کا شوق میرے لیے جغرافیہ اور تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ یہ جنگ جرمنی کے ڈکٹیٹر ہٹلر (Adolf Hitler) نے شروع کی تھی۔ اُسی زمانے میں ہٹلر کی خود نوشت سوانح عمری کا ترجمہ اردو میں ’’میری جدوجہد‘‘ کے نام سے چھپا تھا۔ میں نے اس کو پڑھا۔ بعد کو بھی میں ہٹلر کے بارے میں بہت کچھ پڑھتا رہا۔

میرا اندازہ ہے کہ ہٹلر غیر معمولی صلاحیتوں کا آدمی تھا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ہٹلر کو آخری زمانے میں یہ احساس ہو گیا تھا کہ جنگ چھیڑنا اس کی غلطی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ نئے ہتھیاروں کے وجود میں آنے کے بعد اب جنگ بے فائدہ ہو چکی ہے۔ اگر تیسری جنگ ہوئی تو اْس میں کسی کو جیت حاصل نہ ہوگی، بلکہ صرف یہ ہوگا کہ کچھ لوگ عام تباہی سے بچ جائیں گے :

No victors, only survivors

ہٹلر کے اندر بے پناہ حد تک قوت ارادہ (will power) موجود تھی۔ میرا اندازہ ہے کہ ہٹلر اگر زندہ رہتا تو شاید وہ امن کے لیے کوئی بڑا کام کرتا۔ مگر اس کو ڈر تھا کہ الائڈ پاورس (Allied Powers) کی طرف سے اُس پر جنگی مجرم کی حیثیت سے مقدمہ چلایا جائے گا اور اس کو پھانسی دے دی جائے گی۔ اِسی اندیشے کی بنا پر اس نے ایک بنکر میں 30 اپریل 1945 کو خودکشی کر لی۔ پولینڈ کی یہ کانفرنس تین دن کے لیے تھی۔ اِس کا انعقاد ایک مسیحی تنظیم کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو (Community of Saint Egidio) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اِس تنظیم کا مقصد یہ ہے کہ مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان امن اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا جائے۔

سینٹ ایجی ڈیو (Saint Egidio) یونان کے ایک قدیم مسیحی راہب تھے۔ وہ 650ء میں پیدا ہوئے اور 710ء میں ان کی وفات ہوئی۔ اْنھیں کے نام پر یہ تنظیم قائم کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page