نماز کے بغیر نجات نہیں
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۳
نماز کے بغیر نجات نہیں
قرآن کی سورہ نمبر 74 میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں جب لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ ہو جائے گا اور کچھ لوگ جنت میں اور کچھ لوگ دوزخ میں پہنچا دئے جائیں گے، اُس وقت جنت والے، جہنم والوں سے پوچھیں گے کہ وہ کیا چیز تھی جس نے تم کو جہنم میں پہنچا دیا (ما سلکم فی سقر)۔ جہنم والے اِس کا جو جواب دیں گے، اُس کا ایک جز ء ہو گا : لم نك من الصلين (المدثر : 43) یعنی ہم نماز ادا کرنے والوں میں سے نہ تھے۔
قرآن کے ان الفاظ پر غور کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک جامع کلمہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کو اللہ رب العالمین کی وہ معرفت حاصل نہیں ہوئی جو ہمارے دل و دماغ کو بدل دے، جو ہمیں اللہ کے آگے جھکنے پر مجبور کر دے، جو خود ایمانی تقاضے کے تحت ہم کو ایسا بنادے کہ ہم اُس نظامِ عبادت میں شامل ہو جائیں جس میں اللہ کے بندے مل کر اللہ کے لیے نماز ادا کر رہے تھے اور نماز کو اپنی روزانہ کی زندگی کا ایک لازمی جز بنائے ہوئے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ نماز معرفتِ خداوندی کا عملی اظہار ہے۔ جب ایک بندے کو اپنے خالق کی دریافت ہوتی ہے تو وہ بے تابانہ طور پر اُس کے آگے جھک جاتا ہے، وہ اس کے آگے سجدے میں گر جاتا ہے، جو کہ اس بات کی علامت ہے کہ بندے نے اپنے پورے وجود کو اللہ کے حوالے کر دیا ہے۔ نماز کی اعلیٰ صورت یہ ہے کہ وہ خشوع کی نماز ہو۔ اگر کسی کو بالفرض خشوع کی نماز حاصل نہ ہو تو اس کے حصول کی کوشش اور دعا کرتے ہوئے اُس کو یہ کرنا ہے کہ وہ پھر بھی مقرر اوقات پر رُٹین (routine) کی نماز پڑھتا رہے، تا کہ فرشتوں کے ذریعے موجودہ دنیا میں جو تصویر کشی ہورہی ہے، اس میں اگر اس کی صلاۃ خشوع درج نہ ہو تو کم کم از کم اس کی رُٹین کی نماز فرشتوں کے ریکارڈ میں آ جائے۔ رُٹین کی نماز اس بات کا اعتراف ہے کہ — خدایا، میں خشوع کی نماز نہ پڑھ سکا۔ تو اپنی رحمت سے میری رُٹین کی نماز کو قبولیت کا درجہ دے دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues