Al-Risala · July 2010 · page 4

فرقان کیا ہے

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۴

فرقان کیا ہے

قرآن کی سورہ نمبر 8 میں ارشاد ہوا ہے: یا أيهَا الذين آمنوا، إِن تتقوا الله يجعل لكم فرقاناً (الأنفال : 29) یعنی اے ایمان والو، اگر تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، تو وہ تم کو ایک فرقان عطا کر دے گا:

Believers, If you fear God, He will grant you a criterion (to judge between right and wrong)

اس آیت میں فرقان کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فرقان کا لفظ فرق کا مبالغہ ہے۔ اس کا مطلب ہے، بہت زیادہ فرق کرنا۔ فرق دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنے کا نام ہے۔ مشہور عربی لغت لسان العرب میں، فرق کے معنی دو چیزوں کے درمیان فصل کرنا بتایا گیا ہے: الفرق: الفصل بين الشيئين (10/301)۔

تقویٰ سے آدمی کے اندر فرقان پیدا ہوتا ہے۔ تقویٰ کسی قسم کی متقیانہ وضع کا نام نہیں ہے، تقویٰ دراصل اللہ کے ساتھ شدت خوف کا نام ہے۔ جس آدمی کے اندر شدت خوف پیدا ہو جائے، وہ ایک کٹ ٹو سائز انسان (man cut to size) بن جائے گا۔ ایسے آدمی کے اندر ہر قسم کے متعصبانہ فکر (biased thinking) کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ کامل طور پر خالی الذہن ہو کر چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسا کہ واقعہ وہ ہیں۔ جس آدمی کے اندر اس قسم کا خالص فکر پیدا ہو جائے، اس کو لازمی طور پر فرقان حاصل ہو جائے گا، وہ چیزوں کو بے آمیز شکل میں دیکھے گا، وہ جذبات سے ہٹ کر رائے قائم کرے گا۔ تقویٰ آدمی کی کنڈیشنگ کو توڑ دیتا ہے۔ آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ چیزوں کو ربانی شاکلہ سے دیکھ سکے، وہ کامل طور پر حقیقت پسندانہ انداز میں رائے قائم کر سکے، وہ رد عمل کی نفسیات سے مکمل طور پر پاک ہو جائے۔ یہی وہ انسان ہے جس کے اندر فرقان کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ بلاشبہ یہ سب سے بڑی نعمت ہے کہ کسی آدمی کو فرقان کی صلاحیت مل جائے تقویٰ سے کسی آدمی کو فرقان ملتا ہے، اور فرقان سے آدمی کو وہ نادر صفت حاصل ہوتی ہے جس کو اعلیٰ بصیرت کہا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues

Printed page