فتح، فتحِ مبین
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۹
فتح، فتحِ مبین
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا۔ اس فتح کے لیے قرآن میں صرف فتح (النصر : 1) کا لفظ آیا ہے۔ دوسری طرف 6 ہجری میں مخالفین کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر ایک امن معاہدہ ہوا۔ اس کے لیے قرآن میں فتحِ مبین (الفتح : 1) کا لفظ آیا ہے۔ ان دونوں کے درمیان تقابل (comparison) سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے۔
سورہ النصر میں جس فتح کا ذکر ہے، وہ جدید اصطلاح کے مطابق، ایک سیاسی فتح تھی۔ اس کے برعکس، سورہ الفتح میں جس واقعے کو فتحِ مبین کہا گیا ہے، وہ کوئی سیاسی فتح نہ تھی۔ اس موقع پر جو واقعہ پیش آیا، وہ صرف یہ تھا کہ فریقین کے درمیان حالتِ جنگ کو ختم کر کے حالتِ امن کو قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ گویا کہ یہ ایک جنگ بندی (cease fire) کا معاہدہ تھا، جو سیاسی حقوق کی دست برداری کے ذریعے حاصل کیا گیا۔
اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے مطابق، امن کا قیام زیادہ بڑی چیز ہے۔ سیاسی فتح اگر صرف فتح ہے تو امن کا قیام فتحِ عظیم۔ دونوں کے درمیان یہ فرق کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سیاسی فتح کسی کو صرف انتظامی بالا دستی عطا کرتی ہے۔ اس کے برعکس، امن کے قیام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مواقع کا کھل جاتے ہیں، اور مواقع کار کا کھلنا، ہر قسم کے امکانات کا کھل جانا ہے۔ فتحِ مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتاب بن اسید (وفات : 610 ھ) کو مکہ میں بطورِ عامل مقرر کیا۔ اس کے مقابلے میں، حدیبیہ کے موقع پر جو معاہدہ امن ہوا، اس کے بعد جو مواقع کار کھلے، ان مواقع کو رسول اور اصحابِ رسول نے دعوت و تبلیغ کے لیے استعمال کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف چند سال کے اندر سارا عرب اسلامائز ہو گیا۔ اس واقعے سے ایک عظیم حقیقت معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ سیاسی غلبہ صرف ایک محدود غلبہ ہے۔ اس کے مقابلے میں، مواقع کار کا کھلنا، ایک لامحدود غلبہ کے ہم معنی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues