Al-Risala · July 2010 · page 8

ایک قانونِ فطرت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۸

ایک قانونِ فطرت

ایک روایتِ حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس روایت میں امتِ محمدی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں وہ زوال کا شکار ہوگی۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: لتتبعن سنن من کان قبلکم، شبراً بشراً وذراعاً بذراعاً، حتى لو دخلوا جُحر ضب تبعتموهم (صحيح البخاري، کتاب الاعتصام ) یعنی تم ضرور پچھلی امتوں (یہودونصاری) کی پیروی کروگے، قدم بہ قدم، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوئے ہیں تو تم بھی ضرور اس میں داخل ہوجاؤگے۔ یہ حدیث سادہ طور پر صرف ایک پراسرار پیشین گوئی نہیں ہے، بلکہ اُس میں ایک قانونِ فطرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ قانونِ فطرت وہی ہے جس کو ڈی جنریشن (degeneration) کہا جاتا ہے۔ جس طرح افراد کا جسمانی ڈی جنریشن (physical degeneration) ہوتا ہے، اُسی طرح قوموں کا روحانی ڈی جنریشن (spiritual degeneration) لازمی طور پر ہوتا ہے۔ اس میں کسی امت کا کوئی استثنا نہیں۔ مشاہدہ بتاتا ہے کہ یہودونصاری کے اندر بعد کے زمانے میں جو ڈی جنریشن (زوال) آیا تھا، وہ سب موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کے اندر پوری طرح آچکا ہے۔ اس کی چند مثالیں یہ ہیں۔ مثلاً امتِ مسلمہ کے لیے قرآن میں خیر امت (آل عمران: 110) کا لفظ آیا ہے۔ اس کو موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے ٹائٹل آف آنر (title of honor) کا درجہ دے دیا، حالاں کہ وہ اُن کے لیے صرف ٹائٹل آف ڈیوٹی (title of duty) تھا۔ اِسی طرح ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے معرفت (المائدة: 83) کے ہم معنی تھا، مگر موجودہ زمانے میں اس کو کلمہ گوئی کے ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے۔ اِسی طرح نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے خاشعانہ عبادت (المؤمنون: 2) کے ہم معنی تھی، لیکن موجودہ زمانے میں اس کو صرف اعضاء و جوارح کے ذریعے ادا کی جانے والی ایک رسمی عبادت کے ہم معنی بنا دیا گیا ہے۔ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے کتاب تدبر (ص: 29) کے طور پر نازل کیا تھا، لیکن موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اس کی حیثیت صرف کتاب تلاوت بن کر رہ گئی ہے، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues

Printed page