ہجرت برائے دعوت
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۱
ہجرت برائے دعوت
موجودہ زمانہ میں جب صنعتی ترقی ہوئی تو مسلم ملکوں کے بہت سے لوگ اپنے وطن سے ہجرت کر کے ترقی یافتہ ملکوں میں گئے۔ ایسے مہاجر مسلمانوں کی مجموعی تعداد تقریباً 15 ملین ہے۔ جدید اصطلاح میں ان کو ڈائس پورا کے مسلمان (Muslims in diaspora) کہا جا سکتا ہے۔ اس قسم کا ڈائس پورا مسلم دنیا میں بڑے پیمانہ پر دوبار ہوا ہے۔ پہلی بار ساتویں صدی عیسوی میں اور دوسری بار بیسویں صدی عیسوی میں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے اصحاب سے کہا تھا کہ اللہ نے مجھے تمام انسانوں کے لئے بھیجا۔ اس لئے تم میرے پیغام کو تمام لوگوں تک پہنچا دو۔ اس کے بعد اصحاب رسول کی بڑی تعداد عرب سے نکل کر مختلف ملکوں میں پھیل گئی۔ حدیث میں آیا ہے کہ جس آدمی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت قرار پائے گی۔ اور جس آدمی کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لئے ہو تو اس کی ہجرت اسی طرف ہوگی جس طرف اس نے ہجرت کی: إنما الأعمال بالنية، وإنما لكل امرئ ما نوى۔ فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله. ومن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها ... فهجرته إلى ما هاجر إليه (صحیح مسلم، كتاب الإمارة، باب إنما الأعمال بالنيّة) اس حدیث کی روشنی میں صحابہ کی ہجرت دعوت الی اللہ کے لئے تھی۔ اس لئے ان کو دعوت الی اللہ کا ثواب ملے گا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی ہجرت حصول دنیا کے لئے ہے، اس لیے ان کو صرف دنیا ملے گی، آخرت میں ان کے لئے کچھ نہیں۔
دوسرے لفظوں میں اصحاب رسول دینے والے (giver) بن کر باہر گئے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان، لینے والے (taker) بن کر باہر کے ملکوں میں گئے ہیں۔ اب اگر یہ ہجرت کرنے والے مسلمان صحابہ والا انعام اللہ کے یہاں پانا چاہتے ہیں تو ان کو اپنی ہجرت کو اسلامائز کرنا ہوگا، یعنی وہ ان ملکوں میں داعی بن کر رہیں، نہ کہ صرف حیوان کا سب (earning animal) بن کر۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues