Al-Risala · July 2010 · page 12

نچلے طبقے میں دعوتی کام

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۲

نچلے طبقے میں دعوتی کام

کچھ لوگ دعوت کا کام کر رہے ہیں۔ لیکن وہ اپنا دعوتی کام نچلے طبقے کے لوگوں میں انجام دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی دعوت کا صحیح اسلوب ہے۔ اپنے نقطۂ نظر کی تائید میں وہ قرآن کی ایک آیت پیش کرتے ہیں۔ وہ آیت یہ ہے: فقال الملأ الذين كفروا من قومه ما نراك إلا بشراً مثلنا، وما نراك اتبعك إلا الذين هم أراذلنا بادى الرأي (ھود: 27) اس آیت میں ’أراذلنا‘ کا لفظ پیغمبر کی زبان سے نہیں ہے، یعنی پیغمبر نے یہ نہیں کہا کہ اراذل (نچلے طبقے کے لوگ) میرے مخاطبین ہیں۔ یہ لفظ دراصل پیغمبر کے مخالفین نے بطور استہزا استعمال کیا ہے۔ خود اس آیت سے یہ ثابت ہے کہ پیغمبر نے اصلاً خواص کو یعنی قوم کے سربرآوردہ افراد کو خطاب کیا تھا۔ اسی کے ساتھ فطری طور پر عوام بھی اس کے مخاطب بن گئے۔

اس سلسلے میں دوسرا حوالہ حدیث سے دیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب ملنے کے بعد ہر قل اور ابو سفیان کے درمیان جو مکالمہ ہوا تھا، اس کا ایک حصہ یہ تھا: قال : فأشراف الناس يتبعونه أم ضعفائهم۔ قلتُ : بل ضعفائهم (صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی) اس روایت میں ’ضعفاء‘ کا لفظ متبعین کو بتانے کے لیے آیا ہے، نہ کہ مخاطبین کو بتانے کے لیے۔ اس لیے یہ دلیل بھی مذکورہ دعوے کا ثبوت نہیں بن سکتی۔ اس دعوے کا علمی تجزیہ اس کو سرتا سر غلط ثابت کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر کا خطاب اصلاً قوم کے خواص سے ہوتا ہے۔ ہر پیغمبر کے براہ راست مخاطب قوم کے خواص تھے، لیکن خواص کے طبقے کے اکثر لوگ اپنے دنیوی مفادات کی بنا پر پیغمبر کی دعوت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ قرآن کے بیان کے مطابق، پیغمبر کی دعوت کی صداقت کو اُن کا دل مان لیتا ہے، لیکن ظلم اور علو کی بنا پر وہ اس کے منکر بن جاتے ہیں (النمل: 14)۔ پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وسلم نے ہر قل (شاہ روم) کو دعوتی مکتوب بھیجا، تو اس میں یہ درج تھا کہ اگر تم نے میری دعوت قبول نہ کی، تو تمھاری رعایا کا گناہ تمھارے اوپر ہوگا (فإن توليت فإن عليك إثم الأريسيين)۔ اس میں یہی دعوتی اصول مضمر تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues

Printed page