It is a peaceful translation of the Quran.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۳۳
8 ستمبر 2009 کو جب کنسنٹریشن کیمپ میں ہم لوگ گیس چیمبر (gas chambers) دیکھ کر باہر آئے تو وہاں ویٹکن ٹی وی (Rai) کے نمائندہ مسٹر را برٹو (Roberto Olla) نے مجھ سے پوچھا کہ کنسنٹریشن کیمپ کو دیکھنے کے بعد آپ کا تاثر کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک دہشت ناک تجربہ تھا۔ اس تجربے کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ یقین نہیں آتا کہ ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ اتنا زیادہ بے رحمانہ سلوک کر سکتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میری یہ حالت دیکھ کر انٹرویو ر بھی رونے لگے۔
میں نے کہا کہ اس وقت میں اپنے آپ کو سپیچ لیس (speechless) پا رہا ہوں۔ میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ خدا ہماری مدد کرے اور اس قسم کا سفاکانہ واقعہ دوبارہ تاریخ میں نہ پیش آئے۔ یہاں میوزیم میں جو مختلف سبق آموز چیزیں تھیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ ایک جگہ دیوار پر ایک کالا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اِس بورڈ پر سفید حروف میں مشہور فلسفی جارج سنٹیا نا (وفات : 1952) کا ایک قول ان الفاظ میں لکھا ہوا تھا—جو شخص تاریخ کو یاد نہیں رکھتا، وہ ضرور اس کا اعادہ کرے گا : "The one who does not remember history, is bound to live through it again." (George Santayana)
اِس کے بعد ہم کو کیمپ کے دوسرے حصہ (Auschwitz II) میں جانا تھا جو ایک میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ یہاں جو پروگرام تھا، اس کی بابت گائیڈ بک میں یہ الفاظ درج تھے: Memorial Ceremony: Ceremony at the Execution wall, silent March along the rail tracks and Memorial ceremony at the Monument for the victims of Nazi-facism پروگرام کے مطابق، پہلے مختلف مذاہب کے نمائندوں کے ایک وفد نے الگ الگ مقامات پر پھول ڈالا۔ اسلام کے نمائندہ کے طور پر راقم الحروف نے عرب علماء کے ایک وفد کے ساتھ ایک یادگار مقام پر پھول ڈالا۔ یہاں کئی لوگوں کی تقریریں ہوئیں۔ ان میں سے اکثر لوگ وہ تھے جو دوسری عالمی جنگ کے موقع پر کنسنٹریشن کیمپ میں پکڑ کر لائے گئے تھے، لیکن وہ کسی وجہ سے زندہ بچ گئے۔ ان مقررین میں سے ایک سابق ربائی مسٹر اسرائیل (Israel Meir Lau) تھے جو اس وقت آٹھ سال کی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues