Al-Risala · July 2010 · page 32

غیر اسلامی روش

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۲

غیر اسلامی روش

امریکہ میں رہنے والے پاکستانیوں کے ایک لیڈر مسٹر اصغر چودھری کا ایک سبق آموز بیان اخبار میں آیا ہے۔ وہ بروکلین کے پاکستانی امریکن مرچنٹ ایسوسی ایشن (Brooklyn's Pakistani American Merchant Association) کے چیئر مین ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 11/9 کے بعد پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے لیے امریکہ میں جاب ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس میں اب اور اضافہ ہو گیا ہے۔ چناں چہ یہ پاکستانی مسلمان امریکہ میں اپنے کو انڈین بتانے لگے ہیں، تاکہ وہ یہاں جاب حاصل کر سکیں۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (9 مئی 2010) میں واشنگٹن کی ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس میں مسٹر اصغر چودھری کا مذکورہ بیان ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: Pakistanis are posing as Indians in the US to escape discrimination. A lot of Pakistanis can not get jobs after 9/11 and now it is even worse. They are now pretending that they are Indian so that they may get a job. (p. 22)

دوسری طرف ایک پاکستانی مسلمان نے مذکورہ بیان پر غصہ ظاہر کرتے ہوۓ کہا کہ ـــ میں دہشت گرد کہلا نا پسند کروں گا، مگر میں انڈین کہلا نا پسند نہیں کروں گا: I will rather be called a terrorist than an Indian. ان دونوں نقطۂ نظر میں سے پہلا نقطۂ نظر مصلحت پر مبنی ہے، اور دوسرا نقطۂ نظر نفرت پر مبنی۔ مگر ان دونوں میں سے کوئی نقطۂ نظر بھی اسلام پر مبنی نہیں۔ اسلام میں نہ مصلحت پرستی ہے اور نہ نفرت۔ اسلام کا طریقہ اصول پر مبنی طریقہ ہے۔ اسلام کا طریقہ امن اور انصاف اور انسانی خیر خواہی پر مبنی ہے۔ یہ ابدی اصول ہیں، کسی بھی عذر کی بنا پر ان میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی اصل کمزوری یہ ہے کہ وہ یا تو نفرت کے تحت سوچنا جانتے ہیں، یا مصلحت کے تحت۔ اسلامی طریقہ اصول کے تحت سوچنا ہے، مگر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو اس تیسرے طریقے کی مطلق خبر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues

Printed page