اللہ کا فیصلہ یا اجتہادی خطا
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۱
اللہ کا فیصلہ یا اجتہادی خطا
1947ء سے پہلے کی سیاست میں انڈیا کے دو بڑے علماء نے دو الگ موقف اختیار کیا۔
مولانا حسین احمد مدنی تحریک پاکستان کے خلاف تھے، اور مولانا اشرف علی تھانوی تحریک پاکستان کے حامی تھے۔ اس کی توجیہہ کرتے ہوئے ایک ہندوستانی عالم نے لکھا ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں سے ایک کو قیامِ پاکستان کا حامی بنا دیا تھا، تا کہ آگے چل کر اُس ملک کا قبلہ درست رکھنے اور وہاں حقیقی اور مکمل اسلام کے نفاذ کے لیے کام کرنے کا دروازہ علماء اور دینی قیادت کے لیے کھلا رہے۔ اور دوسرے کو تقسیم ملک کا مخالف بنا کر ایسے امکانات پیدا کر دئے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی جان و مال اور اُن کے دینی وجود اور ملی تشخص کے تحفظ کے میدان میں یہاں کے علماء اپنا فرض ادا کر سکیں۔ جو کچھ ہوا، اللہ ہی کے فیصلے اور قضا و قدر کے نتیجہ میں ہوا۔ ‘‘ (مئی 2010)
اس معاملے کو اگر اللہ کے فیصلے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دونوں علماء اجتہادی خطا کے مرتکب ہوئے۔ مولانا حسین احمد مدنی نے انگریز کو دشمن قرار دیا اور اُن کے خلاف سیاسی جنگ چھیڑ دی۔ یہ بلاشبہ درست نہ تھا، کیوں کہ انگریز ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے تھے۔ مولانا حسین احمد مدنی اور اس قسم کے دوسرے علماء بلاشبہ ایک ایسی غلطی میں مبتلا ہوئے جس کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ اس کو اجتہادی خطا قرار دیا جائے۔ یہی معاملہ مولانا اشرف علی تھانوی کا بھی ہے۔ پاکستانی لیڈروں نے ہندو کو حریف قوم قرار دیا اور اُن کے خلاف لڑائی چھیڑ دی۔ مولانا اشرف علی تھانوی کو چاہیے تھا کہ وہ اس تحریک کی حمایت کرنے کے بجائے یہ اعلان کریں کہ ہندو ہمارے لیے مدعو کا درجہ رکھتے ہیں۔ اُن کو حریف قوم کا درجہ دینا اور ان کے خلاف سیاسی لڑائیھیڑنا درست نہیں۔ دونوں عالموں نے جو کچھ کیا، وہ صرف اُن کا اپنا ذاتی فعل تھا، اللہ کی سنت یا اللہ کے فیصلے سے اُس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس معاملے کو اگر یہ حیثیت دی جائے کہ وہ ان علماء کی اجتہادی خطا تھی تو اس سے کوئی اصول اسلام مجروح نہیں ہوتا۔ لیکن اگر اس کو اللہ کا فیصلہ قرار دیا جائے تو بلاشبہ اُس سے اصول اسلام مجروح ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues