تھرڈ آپشن سے بے خبر
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۸
سوال وجواب سوال ماہ نامہ الرساله (جون (2007) کے شمارے میں ’’مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی‘‘ کے عنوان سے آپ کا ایک مضمون نگاہ سے گزرا۔ اس سلسلے میں دو سوال پیش خدمت ہیں۔ ایک یہ کہ اس تعبیر کے استعمال کرنے کی کیا حکمت پیش آئی۔ دوسرے یہ کہ قرآن (الأحزاب : 21) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے’’اسوہ حسنہ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ اس کی تشریح میں آپ نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب لازمی طور پر ہر صورت حال کے لیے عملی ماڈل کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد صرف اصولی رہنمائی ہے۔ براہِ کرم، اس معاملے کی وضاحت فرمائیں (ڈاکٹر عبدالرحمن، نئی دہلی) جواب 1۔ آپ نے غالباً اصل مضمون کو زیادہ غور کے ساتھ نہیں پڑھا، ورنہ آپ کو اس قسم کا اشکال پیش نہ آتا۔ اگر آپ مضمون کو غور سے پڑھیں تو آپ پر کھل جائے گا کہ مسیحی ماڈل کی آمد ثانی کا مطلب دوسرے لفظوں میں مکی ماڈل کی آمد ثانی ہے۔ مذکورہ مضمون میں جس چیز کو مسیحی ماڈل کہا گیا ہے، وہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پوری طرح موجود ہے۔ مکی دور میں آپ نے خود اسی اصول کے مطابق عمل فرمایا ہے۔ مضمون میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ اس تصور کو زیادہ ممیز (distinguished) کرنے کے لیے اس کو مسیحی ماڈل کا نام دے دیا گیا ہے، تا کہ وہ جدید ذہن کے لیے زیادہ قابل فہم ہو سکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبرانہ مشن کے دو دور ہیں— مکی دور، اور مدنی دور۔ مکی دور پر امن دعوت کا دور ہے۔ اس کے مقابلے میں مدنی دور کو جہاد اور قتال کا دور سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ دونوں ادوار بلا شبہ اسلام میں مستند ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں حالات میں ایسی تبدیلیاں ہوئیں کہ اب جنگ و قتال کے بغیر تمام دعوتی کام انجام دئے جاسکتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ توحید کا مشن دوبارہ مکی دور کی طرف واپس آگیا ہے، یعنی پر امن دعوتی دور کی طرف۔ یہی وہ تاریخی حقیقت ہے جس کو مذکورہ مضمون میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues