تھرڈ آپشن سے بے خبر
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۹
مسیح ماڈل کی واپسی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یہ تعبیر غیر متعلق نہیں ہے۔ ہمارے علماء اور مسلمان عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ قیامت سے پہلے مسیح کی ’’ آمد ثانی‘‘ ہونے والی ہے۔ جس واقعہ کو لوگ مسیح کی آمد ثانی (second coming) کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں، اُسی کو اس مضمون میں مسیحی ماڈل کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی مسیح کی آمد ثانی کا مقصد گویا کہ سکی دور کی تجدید ثانی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف الفاظ کے فرق کا معاملہ ہے، ورنہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ کوئی نئی بات نہیں۔
2- میں نے اپنے مضمون میں کوئی نئی بات نہیں کہی ہے۔ میں نے صرف قرآن کی مذکورہ آیت کی تشریح کی ہے۔ میں نے صرف اس سوال کا جواب دیا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں کیوں اسوۂ حسنہ کا لفظ آیا ہے، قرآن میں اسوۂ کاملہ کا لفظ کیوں استعمال نہیں کیا گیا۔ جب خود قرآن میں کاملہ کا لفظ استعمال نہیں ہوا، تو ہم کو بہر حال اس کی کوئی تو جیہہ ڈھونڈنی ہوگی۔ اور خالص علمی اعتبار سے اس کی کوئی دوسری تو جیہہ ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے میں یکساں نظری اصول تو ہمیشہ موجود رہتا ہے، مگر یکساں عملی ماڈل کبھی موجود نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ اسوہ یا ماڈل ایک عملی نمونہ کا نام ہے، اور عملی نمونہ کبھی بھی غیر متغیر یا ابدی نہیں ہوتا۔ ماڈل ہمیشہ حالات کی نسبت سے طے ہوتا ہے، نہ کہ کسی آئیڈیل نظریے کی نسبت سے۔
غور کیجئے تو خود رسول اور اصحاب رسول کے زمانے ہی میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر خلافت کے معاملے کو لیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی کو نام لے کر خلیفہ نام زد نہیں کیا۔ مگر خلیفۂ اول حضرت ابو بکر نے اس کے برعکس ، نام لے کر خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب کو نام زد کیا۔ اس کے بعد خلیفۂ ثانی نے اس کی پیروی نہیں کی ، بلکہ انھوں نے ایک اور طریقہ اختیار کیا، اور وہ خلیفہ کے انتخاب کے لیے 6 افراد کا ایک بورڈ مقرر کرنا تھا۔
فقہاء کا یہ متفقہ اصول ہے کہ : تتغير الأحكام بتغير الزمان والمكان (زمان ومكان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں) دوسرے لفظوں میں یہ کہ عملی احکام کا تعین کسی واحد نظری معیار
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues