Al-Risala · August 2010 · page 323

اِضاعتِ صلوٰة

الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۳۲۳

اِضاعتِ صلوٰة

قرآن کی سورہ مریم میں پچھلی امتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فخلف من بعدهم خلف أضاعوا الصلوة واتبعوا الشهوات، فسوف يلقون غيا (مريم: 59) یعنی پھر اُن کے بعد ایسے لوگ اُن کے جانشین ہوئے، جنھوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے پڑ گئے، پس عن قریب وہ اپنی خرابی کو دیکھیں گے۔ قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کسی امت کی بعد کی نسلوں میں کس قسم کی خرابی پیدا ہوتی ہے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ بعد کی نسلوں میں وہ ظاہر ہ پیدا ہوتا ہے جس کو قرآن میں "اِضاعتِ صلوٰة" کہا گیا ہے۔ اِضاعتِ صلوٰة صرف ایک ظاہر ے کا نام نہیں ہے۔ کسی امت کے دور زوال میں جب اس کے افراد کے اندر اِضاعتِ صلوٰة کا واقعہ پیش آتا ہے، تو اُس کی نسبت سے ان کی زندگی کے دوسرے مظاہر بھی لازمی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ اِضاعتِ صلوٰة عملاً اِضاعتِ دین کے ہم معنی بن جاتا ہے۔

قرآن کی اس آیت میں، اِضاعتِ صلوٰة سے مراد ترک صلوٰة نہیں، اور نہ اس سے یہ مراد ہے کہ زوال کے زمانے میں نماز کے ظاہری آداب کا اہتمام باقی نہیں رہتا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نماز کے آداب تو بظاہر پوری طرح باقی رہتے ہیں، لیکن اس کی روح لوگوں کے اندر ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ لوگوں کی نماز اُس آدمی جیسی بن جاتی ہے جس کی نماز کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ارجع فصل فإنّک لم تصل (الترمذی، رقم: 2636) یعنی جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ امت کے دورِ زوال میں ایسا نہیں ہوتا کہ لوگ نماز کے ظاہری آداب کو بھی چھوڑ دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ظاہری آداب کے اعتبار سے نماز کبھی کسی امت میں متروک نہیں ہوتی۔ اصل چیز جو متروک ہو جاتی ہے، وہ نماز کی روح (spirit) ہے۔ اسی روح کو قرآن میں "خشوع" کہا گیا ہے۔ اِضاعتِ صلوٰة کی پہچان یہ ہے کہ لوگ وقتی طور پر نماز کے ظاہری آداب کا تو اہتمام کرتے ہوں، لیکن عملی طور پر اُن کی دلچسپیاں تمام ترمادی چیزوں سے جڑی ہوئی ہوں۔ اسی ظاہر ہ کو "اتباعِ شہوات" کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues

Printed page