قرآن کی ایک آیت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۳
قرآن کی ایک آیت
قرآن کی سورہ نمبر 89 میں ارشاد ہوا ہے: ’’پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اُس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی۔ اور جب خدا اس کو آزماتا ہے اور اس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کر دیا‘‘(الفجر: 16-15)
اس آیت میں انسان کی ایک کمزوری کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو شخص اپنی اس کمزوری کو جانے اور اُس پر کنٹرول رکھے، وہ کامیاب ہوگا، اور جو شخص اپنی اس کمزوری سے بے خبر ہو اور اُس پر کنٹرول نہ کر سکے، وہ خدا کی اس دنیا میں ناکام ہو کر رہ جائے گا۔
دنیا میں کسی کے حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ اُس کو کبھی زیادہ ملتا ہے اور کبھی کم۔ دونوں ہی معاملہ خداوند ذوالجلال کے فیصلے کے تحت ہوتا ہے۔
مگر انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب اُس کو زیادہ ملے تو وہ اس کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے اور اُس نفسیات کا شکار ہو جاتا ہے جس کو برتر اندازہ (over-estimation) کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جب آدمی کو کم ملے تو وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ مجھ کو نظر انداز کیا گیا ہے اور پھر وہ اُس نفسیات کا شکار ہو جاتا ہے جس کو کم تر اندازہ (under-estimation) کہا جاتا ہے۔
یہ دونوں ہی قسم کی نفسیات کسی شخص کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جو آدمی اپنا زیادہ اندازہ کرلے، وہ غیر واقعی طور پر برتری کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، جو شخص اپنا کم تر اندازہ کرے، وہ غیر واقعی طور پر کم تری کی نفسیات کا شکار ہو جائے گا۔ صحیح انسان وہ ہے جو ان دونوں قسم کی نفسیات سے اپنے آپ کو بچائے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو قرآن میں النفس المطمئنة (الفجر: 27) کہا گیا ہے، یعنی ہر صورت میں یکساں حال پر قائم رہنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues