اسلامی نظریۂ جنگ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۹
ایک روایت حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آئی ہے: أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله (صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب الأمر بقتال الناس) یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ یہ کہہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں۔ اس حدیث سے کچھ لوگ یہ مطلب نکالتے ہیں کہ اسلام کا نشانہ لوگوں سے اُن کے عقیدے کو بدلوانا ہے، اسلامی دعوت کا آغاز پر امن تبلیغ سے ہوگا، لیکن اگر وہ پر امن تبلیغ سے اسلام قبول نہ کریں تو اُن سے باقاعدہ جنگ کی جائے گی، تاکہ وہ مجبور ہوکر اسلام کے حلقے میں داخل ہو جائیں۔ اس حدیث کا یہ مطلب یقینی طور پر درست نہیں ہے۔ پہلی بات یہ کہ اس حدیث میں ”الناس“ کا لفظ عام معنوں میں نہیں ہے، بلکہ وہ خاص معنی میں ہے۔
اس حدیث میں الناس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر بنو اسماعیل (قریش مکہ) ہیں۔ اس حدیث کو عمومی معنوں میں لینا ہرگز درست نہیں۔ الناس کے لفظ کا ایسا خصوصی استعمال قرآن میں بھی دیگر مقامات پر موجود ہے۔ مثلاً سورہ النصر (110) میں الناس سے مراد مخصوص طور پر یہی قریش مکہ ہیں، نہ کہ عمومی طور پر ساری دنیا کے لوگ۔
اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے معاصر الناس سے اس قسم کی جنگ نہیں کی۔ اس واقعے کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ مذکورہ حدیث میں قتال کا لفظ اپنے لغوی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ شدت کلام کا ایک اسلوب ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) ہے، وہ تشریعی حکم کی زبان نہیں۔
اسلامی تعلیم کے مطابق، دعوت وتبلیغ کا کام مکمل طور پر ایک پرامن کام ہے، اپنے آغاز میں بھی اور اپنے انجام میں بھی۔ دعوت کا نشانہ ایک انسان کے ذہن ودماغ کو بدلنا ہے، تاکہ وہ ایک صالح انسان بن سکے۔
اس قسم کا مقصد صرف پر امن نصیحت کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے، نہ کہ جنگ اور قتال کے ذریعے ۔ جنگ اور تشدد کا طریقہ معکوس نتیجہ پیدا کرے گا، نہ کہ مطلوب نتیجہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues