مہدی یا مسیح کی پہچان
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۱۰
مہدی یا مسیح کی پہچان
مہدی یا مسیح کی پہچان کے بارے میں پہلی بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں جو روایات آئی ہیں، اُن میں سے کسی بھی روایت میں یہ نہیں ہے کہ مہدی اور مسیح اعلان کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کریں گے، یعنی وہ ایسا نہیں کریں گے کہ لوگوں سے کہیں کہ اے لوگو، میں مہدی ہوں، یا میں مسیح ہوں ۔ تم لوگ مجھ کو مانو اور میری پیروی کرو۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مہدی یا مسیح کو پہچانے کا ذریعہ ان کا اپنا دعویٰ یا ان کا اپنا اعلان نہ ہوگا، جیسا کہ پیغمبروں کے معاملے میں ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ مہدی یا مسیح کے ظہور کے وقت اُن کو پہچانے کی صورت کیا ہوگی۔ اس کا ذریعہ یقینی طور پر صرف ایک ہوگا، اور وہ مہدی یا مسیح کا رول ہے۔ دراصل مہدی یا مسیح کے عملی رول کو دیکھ کر لوگ اُن کو پہچانیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے۔
مہدی یا مسیح کے اس رول کو متعین کرنے کے لیے احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر اس کے دو پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو وہ ہے جس کو صحیح البخاری کی ایک روایت میں ”يضع الحرب“ کے الفاظ میں بتایا گیا ہے: (كتاب أحاديث الأنبياء، باب نزول عیسیٰ) یعنی مسیح جنگ کو ساقط کر دیں گے۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو صحیح مسلم کی ایک روایت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: هذا أعظم الناس شهادةً عند رب العالمين (كتاب الفتن، باب ذكر الدجال) یعنی یہ شہادت خدا کے نزدیک عظیم ترین شہادت ہوگی۔
مہدی یا مسیح کے رول کا ایک پہلو وضع حرب ہوگا۔ یہ وضع حرب خود مسلمانوں کی نسبت سے ہوگا، نہ کہ سارے عالم کی نسبت سے، یعنی مسلمانوں کے درمیان جنگ کو ساقط کرنا۔ اس پہلو کا مزید مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان جو لٹر یچر تیار ہوگا، وہ بعض زمانی اسباب سے، حرب اور جہاد پر مبنی ہوگا۔ اس طرح یہ صورت حال پیدا ہو جائے گی کہ مسلمان شعوری طور پر پر امن دعوت کے تصور سے بے خبر ہو جائیں گے۔ اپنے مائنڈ سیٹ کی بنا پر وہ صرف
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues