مہدی یا مسیح کی پہچان
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۱۱
مسلح جہاد کو اسلامی عمل کا درجہ دے دیں گے۔
ایسی حالت میں ، مہدی یا مسیح کا پہلا کام یہ ہوگا کہ وہ اسلام کی ایک غیر عسکری آئیڈیالوجی دریافت کریں ۔ یہ آئیڈیالوجی اتنے طاقت ور دلائل پر مبنی ہو کہ وہ معاصر مسلمانوں کی عسکری سوچ کو دلیل کی سطح پر پوری طرح منہدم کر دے ۔ مذکورہ حدیث میں اصلاً وضع حرب کا مطلب نظریاتی وضع حرب ہے، یعنی فکری سطح پر حرب کے تصور کو غیر متعلق (irrelevant) ثابت کر دینا۔ مہدی یا مسیح کے رول کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو حدیث میں عظیم ترین شہادت کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہاں شہادت سے مراد جسمانی قربانی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد گواہی (witness) ہے۔ کیوں کہ جسمانی قربانی میں عظیم اور غیر عظیم کا فرق نہیں ہوتا۔ جسمانی قربانی میں داخلی نیت کے اعتبار سے فرق ہو سکتا ہے، لیکن جسمانی اعتبار سے خود ایک شخص کی قربانی اور دوسرے شخص کی قربانی کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
عظیم گواہی کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے ــــ دلائل کے اعتبار سے طاقت ور ترین گواہی، یعنی دعوت کے پیغام کو ایسے اعلیٰ دلائل کے ساتھ پیش کرنا جس سے مخاطب اپنے آپ کو علمی طور پر بے دلیل محسوس کرنے لگے، وہ محسوس کرنے لگے کہ وہ دلیل کی زمین پر نہیں کھڑا ہوا ہے، بلکہ وہ خود ساختہ مفروضات کی زمین پر کھڑا ہوا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مہدی یا مسیح کا معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں ہوگا۔ وہ "لیلہا کنھارھا" کے معیار پر پورا اترنے والا واقعہ ہوگا اور یہ بات بالکل فطری ہے۔ جب مہدی یا مسیح اعلان کے ساتھ اپنے کام کا آغاز نہیں کریں گے تو بلاشبہہ ان کے رول کو اتنا زیادہ واضح ہونا چاہیے کہ ایک سنجیدہ اور متلاشی انسان اس کو دیکھ کر یہ دریافت کرلے کہ بلاشبہہ یہی وہ شخص ہے جس کے لیے حدیث میں مہدی یا مسیح کے الفاظ آئے ہیں۔ اگر اس قسم کا وضوح نہ ہو تو کسی عورت یا مرد کے بارے میں کس طرح یہ فیصلہ ہوگا کہ اُس نے مہدی یا مسیح کو پہچاننے کا ثبوت دیا، یا وہ اُن کو پہچاننے کے اس امتحان میں ناکام ہو گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues