Al-Risala · August 2010 · page 15

مولا نا محمود حسن دیوبندی کی مثال

الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۱۵

اختلاف پیدا ہو گیا ۔ شیخ محمد عبدہ کا خیال تھا کہ ہم لمبی مدت سے استعمار کے خلاف سیاسی لڑائی میں مصروف ہیں ، لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا ، اب ہم کو یہ سیاسی کام چھوڑ کر کوئی نتیجہ خیز تعمیری کام کرنا چاہئے ۔ سید جمال الدین افغانی اس نقطۂ نظر سے اتفاق نہ کر سکے ، اس کے بعد شیخ محمد بن عبدہ نے سید جمال الدین افغانی کا ساتھ چھوڑ دیا۔

وہ 1899 ء میں مصر واپس آ گئے ۔ انھوں نے مصر میں قاہرہ کے قریب ایک بڑی جگہ حاصل کی اور جمعية إحيَاء العلوم العربية لنشر المخطوطات کے نام سے وہاں 1900ء میں ایک ادارہ قائم کیا ، مگر وہ زیادہ مدت تک اس ادارہ کی خدمت نہ کر سکے ۔ 56 سال کی عمر میں 1905 میں قاہرہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔

سید جمال الدین افغانی اور شیخ محمد عبدہ دونوں نہایت اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے ، لیکن ان کی صلاحیتیں صحیح سمت میں استعمال ہونے سے رہ گئیں۔ اس واقعہ کا جو پہلو زیادہ عبرت ناک ہے ، وہ یہ ہے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو دعوت الی اللہ کے کام میں استعمال نہ کر سکے۔ مغربی قومیں ان کے لئے مدعو گروہ کا درجہ رکھتی تھیں ۔ ان کا فرض تھا کہ وہ ان قوموں کو اللہ کے دین کی طرف بلائیں ، لیکن انھوں نے ان قوموں کو صرف جنگ و جہاد کا موضوع سمجھا ، نہ کہ دعوت الی اللہ کا موضوع ۔ انھوں نے ان قوموں کو مدعو کے بجائے دشمن کا درجہ دے دیا۔

شیخ محمد عبدہ کے لئے پیرس سے واپسی ایک نیا موڑ بن سکتی تھی ، لیکن مغربی قوموں سے سیاسی لڑائی چھیڑنے کے بعد دوسرا کام جو انھیں نظر آیا ، وہ صرف اپنی قوم کی اصلاح تھی ، نہ کہ مدعو گروہ کو اللہ کا پیغام پہنچانا ۔ یہی وہ غلطی ہے جس میں موجودہ زمانے کے تمام مسلم علماء اور مسلم رہنما مبتلا ہوئے ۔

مولا نا محمود حسن دیوبندی کی مثال

مولانا محمودحسن (وفات: 1920ء) جن کو شیخ الہند کہا جاتا ہے ، وہ دیوبند کے اکابر علماء میں سے تھے۔ ان کے زمانے میں انڈیا میں برطانیہ کا سیاسی اقتدار قائم ہوا۔ دوسرے علماء کی طرح مولانا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues

Printed page