Al-Risala · August 2010 · page 16

مولا نا محمود حسن دیوبندی کی مثال

الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۱۶

محمود حسن دیوبندی برطانیہ کے خلاف سرگرم سیاسی لڑائی میں مشغول ہو گئے، یہاں تک کہ برطانی حکومت نے ان کو گرفتار کر کے مالٹا کے قلعہ میں نظر بند کر دیا۔

وہاں وہ 3 سال سے زیادہ مدت تک رہے۔ اس دوران وہ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوگئے، چناں چہ ان کو رہا کر کے انڈیا واپس بھیج دیا گیا۔ یہ واقعہ جون 1920 کا ہے۔ مولانا محمود حسن دیوبندی مالٹا سے واپس آکر دیوبند میں مقیم ہو گئے ۔ ان کے شاگرد خاص مفتی محمد شفیع عثمانی (وفات: 1976) کا بیان ہے کہ:

” مالٹا کی قید سے واپس آنے کے بعد حضرت ایک رات بعد عشاء دار العلوم میں تشریف فرما تھے، علماء کا بڑا مجمع سامنے تھا، اس وقت فرمایا کہ ہم نے تو مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں۔ یہ الفاظ سن کر سارا مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا کہ اس استاذ العلما ء، درویش نے لمبی مدت تک علماء کو درس دینے کے بعد آخر میں جو سبق سیکھے ہیں وہ کیا ہیں۔ حضرت شیخ الہند نے فرمایا کہ— میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے، ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا، دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی۔ اس لئے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے، بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی میں قائم کئے جائیں، بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے، اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لئے آمادہ کیا جائے، اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے“۔ (جماعت شیخ الہند اور تنظیم اسلامی، از ڈاکٹر اسرار احمد، صفحہ 346) مولانا محمود حسن دیوبندی جب مالٹا کی اسیری سے واپس آئے تو وہ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو چکے تھے۔ 1920 میں دیوبند میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت ان کی عمر 69 سال تھی۔ مولانا محمود حسن دیوبندی کا معاملہ بھی وہی تھا جو دوسرے علماء کا تھا۔ اپنے قومی اور سیاسی فکر کی بنا پر وہ بھی ثنائی طرز فکر (dichotomic thinking) میں مبتلا تھے۔ وہ صرف دو انتخاب (options)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues

Printed page