فتوٰی اور فتوٰی ایکٹوزم
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۲۲
فتوٰی اور فتوٰی ایکٹوزم
فتوٰی کے لفظی معنی ہیں— رائے (opinion)— ایک شخص اپنے کسی ذاتی مسئلے کے بارے میں ایک عالم سے اس کی رائے پوچھے اور وہ عالم اپنے علم کے مطابق ، اس مسئلے کے بارے میں شرعی رائے دے، تو اسی کا نام فتوٰی ہے۔ اسلام کے دورِ اول میں اسی قسم کے فتوے کا رواج تھا۔ موجودہ زمانے میں فتوٰی کی جو توسیع (extention) ہوئی ہے، وہ ایک قسم کی بدعت ہے۔
فتوٰی، اسلام میں قضاء کی طرح ، کوئی انسٹی ٹیوشن (institution) نہیں، وہ کسی مسئلے میں صرف ایک عالم کی رائے کا اظہار ہے۔ کوئی انسان اگر کسی دوسرے شخص یا کسی دوسری جماعت کے بارے میں فتوٰی پوچھے، تو یہ فتوٰی کا غلط استعمال ہوگا۔ اس قسم کے استفتاء کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ برائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اصلاحی فتوٰی ، اسلام میں کوئی چیز نہیں۔ اسلام میں اصلاح کا طریقہ نصیحت اور تبلیغ ہے، نہ کہ فتوٰی جاری کرنا۔
آج کل یہ حال ہے کہ مسلم معاشرے میں کسی خرابی کے حوالے سے فتوے جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ فتوٰی نہیں ہے، بلکہ فتوٰی ایکٹوزم (Fatwa Activism) ہے۔ اب چوں کہ میڈیا کا زمانہ ہے، اس قسم کے فتوے میڈیا میں جگہ پا کر اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ فتوٰی ایکٹوزم کا نقصان تو ضرور ہے، لیکن اُس کا کوئی مثبت فائدہ نہیں۔
صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے میں فتوٰی پوچھنے والے اور مفتی دونوں مصلح کا کردار ادا کریں۔ وہ غلطی میں مبتلا لوگوں کے لیے دعا کریں، وہ ہمدردی کے ساتھ ان کو نصیحت کریں، وہ اُن سے مل کر معلوم کریں کہ ان کی سوچ کیا ہے، ان کا ذہن کہاں اٹکا ہوا ہے اور پھر ان سے اس طرح کلام کریں جس سے ان کا ذہن ایڈرلیس ہو، ان کے اندر نئی سوچ جاگے، وہ اپنی زندگی کو بدلیں اور اپنی اصلاح کریں۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے اسلام میں تبلیغ و نصیحت کا طریقہ ہے، نہ کہ فتوٰی جاری کرنے کا طریقہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues