Al-Risala · August 2010 · page 23

فتوٰی اور فتوٰی ایکٹوزم

الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۲۳

قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایسے کام کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں جس کام کو انھوں نے کیا ہی نہیں (آل عمران : 188)۔ قرآن کی یہ آیت موجودہ زمانے کے فتویٰ پوچھنے والے اور فتویٰ دینے والے دونوں طرح کے لوگوں پر صادق آتی ہے۔ یہ لوگ کسی دوسرے کی برائی کو بتا کر اُس کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہیں۔

یہ عین وہی روش ہے جس کا ذکر قرآن کی مذکورہ آیت میں کیا گیا ہے، یعنی وہ فتویٰ جاری کر کے اصلاح کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں، حالاں کہ اصلاح کا کریڈٹ صرف اُس انسان کے لیے مقدر ہے جو ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ نصیحت کا فریضہ انجام دے۔

فتویٰ ایکٹوزم کی سب سے زیادہ ناپسندیدہ صورت وہ ہے جس کو تکفیر کہا جاتا ہے، امام نووی (وفات: 1277ء) نے لکھا ہے کہ: واعلم أن مذهب أهل الحق أنه لا يكفر أحد من أهل القبلة (صحیح مسلم بشرح النووی، جلد 1، صفحہ 150)

یعنی علما حق کا یہ مسلک ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تکفیر کا طریقہ سرے سے اختیار نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہو سکتا جو کعبہ کے سوا کسی اور چیز کو اپنا قبلہ عبادت بنا لے۔

اسلام کی تاریخ میں تین دور کو ’’قرون مشهود لها بالخير‘‘ کہا گیا ہے، یعنی— دورِ رسالت ، دورِ صحابہ، دورِ تابعین ۔ یہ تین دورِ اسلام میں ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان تینوں دور میں فتویٰ ایکٹوزم یا تکفیر کا طریقہ کبھی اختیار نہیں کیا گیا۔ یہ طریقہ بلاشبہ اسلام کے ماڈل سے انحراف کے ہم معنی ہے۔

اسلام کے دورِ اول میں سارا زور نصیحت و تبلیغ پر دیا جاتا تھا، کیوں کہ مطلوب نتیجہ صرف نصیحت و تبلیغ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ فتویٰ جاری کرنے سے۔ کسی شخص یا اجتماعی بگاڑ کو لے کر اس کے خلاف فتویٰ دینا، اُس وقت شروع ہوا جب کہ مسلمانوں میں دعوت و تبلیغ کا ذہن ختم ہو گیا۔ لوگ برائی کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کو کافی سمجھنے لگے۔ یہ طریقہ بلاشبہ قابلِ ترک ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues

Printed page