مسلم پرسنل لا کا مسئلہ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۳۲
اس ناعاقبت اندیشانہ پالیسی میں سرفہرست مسلمانوں کی انتخابی پالیسی ہے۔ 1947ء کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد کے مشورے کی روشنی میں، مسلمانوں نے کانگریس کو انتخابی سپورٹ دینے کی پالیسی اختیار کی۔ یہ پالیسی اصولاً درست تھی، لیکن مسلمانوں نے یہ غلطی کی کہ وہ کانگریس سے غیر حقیقت پسندانہ طور پر بہت زیادہ توقع رکھنے لگے۔ یہ تو قع عملاً پوری نہیں ہو سکتی تھی اور نہ وہ پوری ہوئی۔ اس کے بعد چھٹی دہائی میں مسلمانوں نے دوسری نادانی یہ کی کہ انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر نان کانگریس ازم (non-congressism) کی پالیسی اختیار کی۔ یہ منفی ووٹ (negative voting) کی پالیسی تھی، جو فطری طور پر مسائل میں صرف اضافے کا سبب بنی۔ 1992ء میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد مسلمانوں نے تقریباً متفقہ طور پر الیکشن کے معاملے میں اینٹی بی جے پی کی انتخابی پالیسی اختیار کی۔ یہ منفی پالیسی بھی فطری طور پر مسلمانوں کو کوئی مثبت فائدہ نہ دے سکی۔
ہندوستان ایک سیکولر جمہوری ملک ہے۔ مسلمان یہاں ایک اقلیتی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسی حالت میں، مسلمانوں کے لیے یہاں واحد مفید طریقہ یہ ہے کہ وہ اُس پالیسی کو اختیار کریں جس کو ٹائٹ روب واک (tight-rope walk) کہا جاتا ہے، یعنی کسی کو اپنا دشمن نہ بنانا اور ہر ایک سے بقدرا مکان سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ 1947ء کے بعد مسلمان اگر اس تعمیری پالیسی کو اختیار کرتے تو یقینی طور پر یہاں اب تک وہ قانون بن چکا ہوتا جو مسلمانوں کے عائلی مسئلے کا واحد حل ہے۔
ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل پتے پر رابطہ کریں: The Spritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 65704898/99, Fax: 28236323 Email: spiritual.msg@gmail.com
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues