Al-Risala · August 2010 · page 31

مسلم پرسنل لا کا مسئلہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۳۱

لیکن اس قسم کی تعمیر کی کوشش نہ اُس دور میں ہوئی جب کہ ہندوستان میں مولانا ابوالکلام آزاد اور جواہر لال نہرو (وفات : 1964) جیسے اعتدال پسند لیڈر موجود تھے، نہ بعد کے زمانے میں اس رخ پر کوئی سنجیدہ کوشش انجام دی گئی۔

اس معاملے کی ایک مثال شاہ بانو کیس ہے۔ شاہ بانو کو اس کے شوہر محمد احمد نے طلاق دیا۔ اس کے بعد شاہ بانو اس کیس کو ملکی عدالت میں لے گئی۔ کئی سال کی عدالتی کارروائی کے بعد 1985 میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس مسٹروی چندر راچوڑ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ اس فیصلے کے تحت شاہ بانو کو یہ حق دیا گیا تھا کہ شاہ بانو کا سابق شوہر گزرارے کے طور پر اس کو 180 روپے ماہانہ ادا کرے۔ یہ فیصلہ کرمنل پروسیجر کوڈ (criminal procedure code) کی دفعہ 125 کے تحت دیا گیا تھا۔

علماء نے اس فیصلے کو "شریعت میں مداخلت‘‘ قرار دیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت اس کے خلاف ملکی پیمانے پر جلوس واحتجاج کی پرشور تحریک چلائی گئی، یہاں تک کہ علماء کے مطالبے کے تحت 1986 میں انڈیا کی پارلیامنٹ نے ایک ایکٹ پاس کیا۔ اس کا نام مسلم مطلقہ ایکٹ تھا۔ اس ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد علماء نے "یوم فتح‘‘ منایا، لیکن بہت جلد ان کو معلوم ہوا کہ یہ قانون ان کی توقعات کو پورا نہیں کرتا۔ علماء کا مطالبہ یہ تھا کہ مسلم مطلقہ خاتون کو دفعہ 125 کے مذکورہ ملکی قانون سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ اس قسم کا استثناء سرے سے ممکن ہی نہ تھا، کیوں کہ وہ واضح طور پر دستور ہند کے خلاف تھا۔ اس کے بعد علماء کو چاہیے تھا وہ اپنی نادانی کا اعلان کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ اپنے حجروں میں واپس چلے جائیں۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ بدستور مسلمانوں کے سیاسی اسٹیج پر اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

یہ کام بلاشبہ ایک نازک کام ہے اور اُس کو صرف ہوش مندانہ کوشش کے ذریعے انجام دیا جاسکता ہے، لیکن مسلم علماء اور مسلم رہنماؤں نے انتہائی ناعاقبت اندیشانہ طور پر ایسی سیاسی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو صرف معاملات کو بگاڑنے والی ہے، وہ کسی بھی درجے میں اصلاح کا ذریعہ بننے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues

Printed page