مشترک خاندانی نظام
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۳۵
مشترک خاندانی نظام
مشترک خاندانی نظام (joint family system) شرعی طور پر جائز ہے، لیکن عملی تجربہ بتاتا ہے کہ عام طور پر وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ شادی کے بعد شوہر اور بیوی کے درمیان نزاعات کا سبب زیادہ تر مشترک خاندانی نظام ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل طریقہ یہ ہے کہ مشترک خاندانی نظام سے کامل احتراز کیا جائے۔
مشترک خاندانی نظام کیا ہے۔ مشترک خاندانی نظام دراصل یہ ہے کہ خونی رشتے دار اور غیر خونی رشتے دار ایک ساتھ ایک گھر میں رہیں ۔ یہ طریقہ کوئی ناجائز طریقہ نہیں، لیکن یقینی طور پر وہ ایک غیر فطری طریقہ ہے۔ مشترک خاندانی نظام میں جو مسئلے پیدا ہوتے ہیں، وہ تمام تر اسی غیر فطری زندگی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
کوئی بھی وعظ و نصیحت اس مسئلے کا حل نہیں۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ اس غیر فطری نظام کو اختیار ہی نہ کیا جائے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس وقت تک شادی نہ کی جائے جب تک شادی شدہ جوڑے کے رہنے کے لیے الگ گھر کا انتظام نہ ہو جائے ۔ شادی کے بعد لڑکی کی رخصتی اپنے علاوہ گھر میں ہو، نہ کہ مشترک گھر میں ۔ اس کے سوا اس مسئلے کا کوئی اور حل نہیں۔
شادی کے بعد علاحدہ گھر کا انتظام کوئی ناممکن چیز نہیں۔ والدین اگر صرف اتنا کریں کہ وہ جہیز اور ولیمہ اور بارات جیسی چیزوں میں جو اخراجات کرتے ہیں، اس کو وہ مکمل طور پر بند کر دیں اور ساری رقم صرف گھر کی مد میں لگا دیں تو وہ علاحدہ گھر کا انتظام با آسانی کر سکتے ہیں۔ یہ علاحدہ گھر خواہ چھوٹا ہو، وہ مشترک بڑے گھر سے ہر حال میں زیادہ بہتر ہے۔
اگر والدین کے اندر یہ سوچ پوری طرح موجود ہو تو یقینی طور پر وہ کامیابی کے ساتھ اس کا انتظام کر سکتے ہیں ۔ بالفرض اگر کوئی شخص علاحدہ گھر کا انتظام نہیں کر سکتا تو اُس کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ شکایتوں میں جینا چھوڑ دے اور صبر و برداشت کے ساتھ مشترک خاندان میں رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues