وقت کی اہمیت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۴۱
الرسالة کی تقسیم سے میرا آغاز ہوا۔ یہ کام مجھے میرے استاذ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے سونپا تھا۔ اس وقت میں زیادہ نہیں سمجھتا تھا، مگر جو کام مجھے دیا جائے اسے کرنا ہی میرا طریقہ تھا جو کہ آج تک جاری ہے۔ اب یہی کام میں مدھیہ پردیش کے شہر دیواس میں کر رہا ہوں۔ میرا اندازہ ہے کہ 1977ء یا 1978ء میں بھوپال سے میں نے یہ کام شروع کیا۔ اور دھیرے دھیرے یہ سمجھنے لگا کہ الرسالة صرف ایک پرچہ نہیں، بلکہ وہ ایک ایسا مشن ہے جس میں امت کے لیے دین و دنیا کا راز پوشیدہ ہے۔ مولا نا وحید الدین خاں صاحب موثر انداز میں مسلمانوں کو زندگی کے راز بھی بتا رہے تھے اور ان کے اندر دینی روح بھی زندہ کر رہے تھے۔ 1984ء میں میں نے اپنے وطن دیواس میں کام شروع کیا۔ اپنے استاذ مولانا ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کے ساتھ عملًا میں دیکھ چکا تھا کہ غیر مسلم افراد سے بھی اپنائیت کا رشتہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ میں اسی راستے پر چلا اور آج اپنے شہر میں آر ایس ایس کے مکھیہ کا کالج کا ایک با اختیار فرد ہوں اور شہر میں آرایس ایس کے آل انڈیا سرسنچا لک ایک بار آئے تو ان سے میری ملاقات کرائی گئی۔ اور ان اصحاب کے زیادہ تر پروگراموں میں مجھے بولنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ نیز شہر میں جب حالات کچھ گڑ بڑ ہوئے ہیں، انھیں درست کرنے میں مجھے آگے رکھا جاتا ہے۔ دیواس کے قریب اندور اور اجین میں بھی ہمارے آدمی کام کرتے ہیں۔ اور بھوپال کی سرگرمیوں میں بھی میں ہر طرح سے شریک ہوں۔ حضرت مولانا کے سفر بھوپال کے ہر پروگرام میں ایک کارکن کے طور پر میری شرکت ہوئی ہے۔ چند سال قبل اس مشن کی مخالفت کرنے والے حیدر آباد کے ایک شخص نے مجھے حضرت مولانا کے خلاف ورغلانے کے لیے ایک خط لکھا، اور حضرت مولانا کے خلاف لکھی ہوئی اپنی کتابیں بھیجیں۔ مگر اللہ کی مہربانی سے میں نے انھیں جواب لکھا اور پھر خطوط کا لمبا سلسلہ چلا اور آخر میں وہ خاموش ہو گئے اور میرے واضح دلائل کا نہ تو جواب دے سکے اور نہ انھیں تو بہ کی توفیق نصیب ہوئی۔ ایسے واقعات میرے اس یقین کو بڑھاتے ہیں کہ مشن کے مخالفین ہٹ دھرمی کے خول کو کسی طرح نہیں توڑ پا رہے ہیں۔ اس مشن کو جس حد تک میں سمجھا ہوں، اس میں اہم بات یہ ہے کہ امت اپنے زوال پذیر حالات میں ایسی رہنمائی سے محروم تھی جو اسے تعمیر و ترقی کی مثبت فکر طاقتور انداز میں دے سکے اور احساس شکست کے تحت خود کش اقدامات کو عقل و اسلام کے خلاف ثابت کر سکے۔ موجودہ زمانے میں یہ کام صرف اور صرف اعلیٰ ترین سطح پر عصری اسلوب میں مولانا کی تحریروں نے انجام دیا۔ مجھے ہندی علاقہ اور ہندی ماحول میں کام کرنا ہوتا ہے جہاں اردو کی زیادہ کتب نہیں پڑھوائی جا سکتی ہیں۔ ہم مخصوص تحریروں کو ہندی میں پھیلاتے ہیں اور میٹنگوں میں اس کو پڑھ کر سناتے ہیں۔ اردو تحریریں بھی سناتے ہیں۔ اب تک کا تجربہ یہ ہے کہ سنجیدہ ذہن والوں کو لگتا ہے کہ آخری حد تک صبر و برداشت کی تعلیم ہی اسلام کی اصل تعلیم ہے اور حالات کو پرامن بنانے کے لیے آخری حد تک ہمیں اپنا رول ادا کرنے کے بعد ہی وہ مواقع میسر آتے ہیں جو ہمارے لیے اسلام کی دعوت اور اپنی ترقی کے راستے کھولتے ہیں۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہماری ساری زندگی ہر قسم کی بے احتیاطیوں سے بچتے ہوئے اس مشن کی تکمیل میں لگی رہے۔ (عبد الحمید، دیواس، مدھیہ پردیش)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues