وقت کی اہمیت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۴۰
خبرنامہ اسلامی مرکز — 204
1- میں الرسالہ کا ایک قدیم قاری ہوں اور 12 اپریل 2010 آپ کے گھر پر مولانا محمد مصطفی عمری کے ہمراہ آپ سے نصیحت آموز ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ آپ کے ساتھ میں نے مغرب کی نماز بھی ادا کی تھی۔ قیمتی وقت دینے کے لئے آپ کا شکریہ۔ مولانا محمد ذکوان ندوی سے تعارف کے دوران میں نے بتایا تھا کہ ممبئی کے اہم مقام چرچ گیٹ اسٹیشن پر واقع بک اسٹال پر میں پچھلے دوسالوں سے آپ کا ترجمہ قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر فروخت (sale) کے لئے رکھوا کر آپ کے مشن میں کام کر رہا ہوں۔ اس اسٹیشن پر روزانہ لاکھوں لوگ آتے اور جاتے ہیں۔ قرآن کے تقریباً 300 ترجمے یہاں سے بک چکے ہیں جس میں 90% خریدار غیر مسلم حضرات ہیں۔ یہ کام میں جاوید بھائی (ICRA) کے تعاون سے کر رہا ہوں۔ (محمد اسلم چو غلے، ممبئی)
2- شانتی گری ریسرچ فاؤنڈیشن (مالویہ نگر، نئی دہلی) کے تحت نہر و آڈیٹوریم (تین مورتی ہاؤس) میں 21 اپریل 2010 کو ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا:
National Workshop on Sustainable Development: Building Alternatives. اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے سی پی ایس کی ٹیم کے 6 افراد کے ساتھ اس میں شرکت کی۔ اور موضوع پر انگریزی زبان میں آدھ گھنٹہ تقریر کی ۔ اس موقع پرسی پی ایس کی طرف سے حاضرین کو مطالعے کے لیے دعوتی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ لوگوں نے اس کو بہت شوق سے لیا۔
3- ٹائمز آف انڈیا (نئی دہلی) کی نمائندہ مسکینہ خان (Deputy Editor Editorial) نے 4 مئی 2010 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ اسلام میں ماں کا درجہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں انھیں قرآن اور حدیث کے ضروری ریفرنس میں اسلامی تعلیمات بتائی گئیں۔ اس کے علاوہ ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور صدر اسلامی مرکز کی کتاب Woman in Islamic Shari'ah مطالعے کے لیے دی گئی۔ 4- مئی کا الرسالہ نظر نواز ہوا۔ کافی تحقیق اور وسیع مطالعہ کا نتیجہ لگتا ہے۔ خروج دجال اور یاجوج و ماجوج، ظہور مہدی اور نزول مسیح جیسے پیچیدہ اور اختلافی مسائل پر آپ نے نہایت ہی عالمانہ اور محققانہ مدلل ومسبوط نظریہ پیش کیا ہے، جو نہ مافوق الفطرت لگتا ہے اور نہ ہی دیومالائی یا طلسماتی قصہ، بلکہ یہی نظریہ فطرت سے مطابقت بھی رکھتا اور ممکن الوقوع بھی ہے۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ مسلم علماء اس کو پسند فرمائیں گے یا قبول کریں گے۔ کیوں کہ اس سلسلہ میں وہ اپنے روایتی بند خول سے باہر نہیں نکلنا چاہتے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کے اس جرأت مندانہ پیشکش اور اقدام کی وجہ سے آپ کو مطعون کیا جائے ۔ (سید ناصر ندیم، کشمیر)
5- طالب علمی کے زمانے ہی سے اگر میں کسی مشن سے واقف ہوا تو وہ الرسالہ مشن ہے۔ شہر بھوپال میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues