شرک کیا ہے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۵
وجود بخشا، جس نے اس کو اعلیٰ درجے کی شخصیت عطا فرمائی، جس نے اس کو زمین جیسے نادر سیارے پر آباد کیا، جس نے اُس کے لیے لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام کیا، وغیرہ۔ اس طرح کا احساس آدمی کے اندر اللہ کے ساتھ بے پناہ تعلق پیدا کرتا ہے، وہ اللہ کو اپنا سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ یہی اللہ کے ساتھ شدید محبت کی بنیاد ہے۔
پھر جب وہ اللہ کی اس حیثیت کو دریافت کرتا ہے کہ یہ تمام چیزیں اس کا ایک طرفہ عطیہ ہیں، کسی بھی وقت اللہ اس کو چھین سکتا ہے۔ پھر یہ کہ ہر عطیہ کے ساتھ جواب دہی (accountability) جڑی ہوئی ہے۔ یہ احساس اس کو مزید اس اندیشے میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اگر میں نے ان عطیات الہی کا حق ادا نہ کیا تو اللہ کے یہاں سخت پکڑ ہوگی۔ یہ احساسات آدمی کے اندر وہ کیفیت پیدا کر دیتے ہیں جس کو قرآن میں خوف شدید (التوبہ : 18) کہا گیا ہے۔
اسی کے ساتھ آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ اس دنیا میں سارا اختیار صرف ایک اللہ کو حاصل ہے، اللہ کے سوا کسی اور کو جزئی درجے میں بھی کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اللہ ہی دینے والا اور اللہ ہی محروم کرنے والا ہے۔ یہ احساس اُس کو اپنے عجزِ کامل کی یاد دلاتا ہے۔ وہ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں پاتا کہ وہ اللہ کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرینڈر کر دے۔
اسی دریافت کا نام معرفت (realization) ہے۔ اس دریافت سے جس کے اندر وہ شخصیت بنے جب کہ ایک اللہ ہی اس کے لیے سب کچھ بن جائے، وہ اُسی کی یاد میں جئے اور یہی سوچ اس کی غالب سوچ بن جائے، ایسا انسان شریعت کی اصطلاح میں موحد ہے۔ اس کے برعکس، اللہ جس کا واحد کنسرن نہ ہو، بلکہ اس کے ساتھ وہ دوسری چیزوں کو بھی اپنا کنسرن بنائے ہوئے ہو، ایسا انسان شریعت کی اصطلاح میں شرک میں مبتلا ہے۔ موحد کی شخصیت انٹیگریٹڈ پرسنلٹی (integrated personality) ہوتی ہے، اور مشرک کی شخصیت اسپلٹ پرسنلٹی (split personality)۔
شریعت کے مطابق، اللہ انسان کی اصل غایت ہے، اور دوسری چیزیں صرف اس کی ضرورت۔ توحید اور شرک دونوں کا تعلق حقیقت سے ہے، نہ کہ صرف مظاہر سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues