Al-Risala · September 2010 · page 6

اخراج اول، اخراج ثانی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۶

اخراج اول، اخراج ثانی

آدم پہلے انسان تھے۔ آدم کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُن کو جنت میں بسایا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن سے کہا کہ اے آدم، تم اور تمھاری بیوی اس جنت میں رہو اور اس میں کھاؤ پیو، مگر تم اس شجرِ ممنوعہ کے پاس مت جانا، ورنہ تم ظالم قرار پاؤ گے (البقرۃ: 35)

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو جنت میں آزادی حاصل تھی، مگر اس کے ساتھ وہاں ایک پابندی بھی شامل تھی، یہ کہ وہ نفس کی ترغیب (temptation) کے تحت کوئی کام نہ کرے، بلکہ وہ خدا کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق، با اصول زندگی گزارے۔

انسان اس طریقے پر قائم نہ رہ سکا، اس لیے ایک عرصے کے بعد اس کو جنت سے نکال دیا گیا۔ یہ انسان کی تاریخ کا پہلا اخراج (first expulsion) تھا۔

اس کے بعد انسان کو موجودہ زمین پر بسا یا گیا۔ یہاں بھی انسان کے لیے وہی شرط تھی۔ چناں چہ آغاز ہی میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ میرے پیغمبر تمھارے پاس آئیں گے۔ تم ان پیغمبروں کی پیروی کرنا۔ جو لوگ ان پیغمبروں کی پیروی کریں گے، ان کو خدا کی رحمت حاصل ہوگی (البقرۃ: 38) جو لوگ پیغمبروں کی پیروی نہ کریں، ان کو دوبارہ اس زمین سے نکال دیا جائے گا، جو کہ مثل جنت ہے (البقرۃ: 25)۔ یہ انسان کے لیے دوسرا اخراج (second expulsion) ہوگا۔ یہ دوسرا اخراج قیامت کے وقت پیش آئے گا۔

موجودہ دنیا میں انسان آزمائش (test) کے لیے رکھا گیا ہے۔ خدا کے غیر مرئی (invisible) فرشتے ہر عورت اور ہر مرد کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں، اس بات کا ریکارڈ کہ کون شخص آزادی پانے کے باوجود پابند زندگی کے طریقے پر قائم رہا، اور وہ کون لوگ ہیں جنھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا، جو صراط مستقیم سے ہٹ کر منحرف راستوں پر چلنے لگے۔ قیامت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں، پہلے گروہ کے لیے جنت ہے اور دوسرے گروہ کے لیے جہنم۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues

Printed page