شہادت علی الناس، متبادل نظام
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۸
دعوت الی اللہ
سورہ الفرقان میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر پر قرآن نازل کیا، تاکہ وہ تمام عالم کے لیے نذیر بنے (24:1)۔ واقعات بتاتے ہیں کہ عملاً ایسا نہیں ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے ہر فرد تک قرآن یا اس کا پیغام پہنچادیں ، پھر یہ ذمہ داری کس طرح ادا ہوئی۔ اس پر غور کرتے ہوئے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ پیغمبر کے مخاطب اول وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی زمانے میں اعیان یا خواص کا درجہ رکھتے ہوں۔ اعیان یا خواص تک اگر حق کا پیغام پہنچ جائے تو اس کے بعد یہ ان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس پیغام کو عوام تک پہنچائیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قل کے نام اپنے دعوتی خط میں اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا: فإن تولیت فإنّ عليكم إثم الأريسيين (صحیح البخاري)۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دعوت کا کام سب سے پہلے گراس روٹ لیول (grass root level) میں کیا جانا چاہیے، مگر یہ درست نہیں۔ دعوت الی اللہ میں گراس روٹ کا درجہ خواص کو حاصل ہے، گویا کہ دعوت کا اسلوب یہ ہے کہ خواص سے عوام تک پہنچا جائے، نہ کہ عوام سے خواص تک۔ اسلامی دعوت اپنے نشانے کے اعتبار سے فکری انقلاب کے ہم معنی ہے۔ فکر کا سرچشمہ انسان کا دماغ ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو ذہین ہوں اور تعلیم یافتہ ہوں۔ اسلامی انقلاب حقیقتاً یہ ہے کہ اولاً خواص میں فکری انقلاب لایا جائے۔ اس کے بعد عوام میں تبدیلی لائی جائے۔ خواص میں فکری تبدیلی لائے بغیر ، عوام میں فکری تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ کیوں کہ عوام ہمیشہ خواص کے تابع ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، خواص کبھی عوام کے تابع نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ صرف عوام کو اپنے دعوتی عمل کا نشانہ بناتے ہیں، وہ عملاً صرف ایک قسم کی بھیڑ اکٹھا کر پاتے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں سے وہ ربانی شخصیات نہیں بنتیں جو اسلامی دعوت کا اصل مطلوب ہیں۔
بھیڑ جمع کرنے کا طریقہ کسی محدود سیاسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کارآمد ہوسکتا ہے، لیکن وہ اسلامی دعوت کا مقصد حاصل کرنے کے لیے بالکل کارآمد نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues