قتل دجال
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۹
قتل دجال
صحیح مسلم میں قتل دجال کے بارے میں دو روایتیں آئی ہیں۔ یہ دونوں روایتیں بظاہر ایک ہی حدیث کے دو حصے ہیں۔ تفصیلات سے قطع نظر، ان روایتوں کا خلاصہ یہ ہے قیامت سے پہلے دجال ظاہر ہوگا۔ اس کو ایک شخص قتل کرے گا۔ اس شخص کے لیے ایک روایت میں "امرء من المومنین" کا لفظ آیا ہے، اور دوسری روایت میں "رجل من المومنین" کا لفظ۔ امت محمدی کا یہ شخص قتل دجال کا جو کام انجام دے گا، اُس کے لیے ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: ھذا اعظم الناس شھادةً عند رب العالمین (کتاب الفتن وأشراط الساعة، باب ذكر الدجال) یعنی یہ رب العالمین کے نزدیک سب سے بڑی شہادت ہوگی۔
یہاں شہادت کا مطلب دعوت ہے۔ شہادت اعظم کا مطلب دعوتِ اعظم ہے، نہ کہ موت اعظم۔ جیسا کہ ایک روایت میں آیا ہے، یہ شہادت یا دعوت بذریعہ حجت انجام پائے گی۔ دجال کو قتل کرنے والے کے لیے مذکورہ روایت میں ’حجیج‘ کا لفظ آیا ہے، یعنی دلیل کے ذریعے غالب آنے والا۔ حدیث میں جس شہادتِ اعظم یا دعوتِ اعظم کا ذکر ہے، وہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کام کی انجام دہی کے لیے اللہ کی خصوصی توفیق درکار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادتِ اعظم کا یہ کام ایک ایسا شخص انجام دے گا جس کو اللہ کی خصوصی توفیق سے بنیادی طور پر دو مددگار چیزیں حاصل ہوں گی— معرفتِ اعظم، اور نصرتِ اعظم۔
دجال یا دجالیت سے مراد دراصل ایک نظریاتی فتنہ ہے۔ اس کو جوابی نظریے ہی کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ گویا کہ مذکورہ رجل مومن، دجال کا جسمانی قتل (physical murder) نہیں کرے گا، بلکہ وہ اس کا نظریاتی قتل (ideological murder) کرے گا۔ دجال نظریاتی مغالطوں پر کھڑا ہوگا، اور رجل مومن نظریاتی دلائل کے ذریعے اس کو بے اصل ثابت کرے گا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں قتل دجال کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues