معرفت مقصد انسانیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۲
جس خدا کے کمالات اتنے زیادہ ہوں، اس کی دریافت ایک وقتی واقفیت نہیں ہوسکتی، یہ بلا شبہہ دریافت کا ایک لامتناہی سفر ہے جس کا آغاز تو متعین ہو سکتا ہے، لیکن اس کا اختتام متعین نہیں۔ خدا کی معرفت کا یہ مطلب نہیں کہ مراقبہ (meditation) کرکے تصور کی دنیا میں ذاتِ الہی کی جھلکیاں دیکھنے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح وجد (ecstasy) بھی معرفت کے ہم معنی نہیں۔ معرفت ایک اعلیٰ شعوری حالت ہے جو تخلیقاتِ الہیہ میں غوروفکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ قرآن کے مطابق، معرفت کی تعریف (definition) یہ ہے کہ ایک بندہ، رب العالمین کو اُن عظمتوں کے ساتھ دریافت کرے کہ وہی اِس کے لیے اس کی ساری محبتوں کا مرکز بن جائے (البقرۃ: 165)، اور اس کی خشیت کے جذبات تمام تر اٰسی کے ساتھ وابستہ ہو جائیں (التوبۃ: 18)۔ محبت اور خشیت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک بندہ جب تدبر اور تفکر کے ذریعے خالقِ کائنات کو اس کی صفاتِ کمال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کے دل میں بے پناہ حد تک اپنے رب کا اعتراف پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ جب وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ دینے والا خدا ہے، اُس کے سوا کوئی اور دینے والا نہیں تو اس کے دل کی گہرائیوں میں یہ اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر میں خدا کی رحمتوں سے محروم ہو جاؤں تو زمین و آسمان میں میرا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسنِ تقویم (التین: 4) کے ساتھ پیدا کیا۔ اس کو وہ تمام دماغی صلاحیت عطا کردی جس کے ذریعے وہ رب العالمین کی معرفت حاصل کر سکے۔ دوسری طرف، خارجی دنیا (nature) کے اندر معرفت کے تمام اجزا مخفی صورت میں رکھ دئےے۔ اب انسان کا یہ کام ہے کہ وہ معرفت کے ان چھپے ہوئے اجزا کو دریافت کرے اور اعلیٰ معرفت کا تجربہ کر کے اپنے اندر ربانی شخصیت(divine personality) بنائے۔
معرفت کا یہ عمل ایک مسلسل دریافت کا عمل تھا۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ ایک پوری تہذیب (civilization) وجود میں آئے، جو معرفت کے چھپے ہوئے حقائق کو انسان کے لیے کھول
‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues