معرفت مقصد انسانیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۳
دے۔ آج تہذیب کے نام سے ہم جس تاریخی واقعے کو جانتے ہیں، وہ اگرچہ مادی تہذیب (material civilization) ہے، لیکن اپنی حقیقی نوعیت کے لحاظ سے یہ دراصل ربانی تہذیب (divine civilization) ہے۔ موجودہ تہذیب دراصل اُس واقعے کا ظہور ہے جس کو قرآن کی سورہ نمبر 41 میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: سنريهم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (حم السجدة: 53)
معرفت کا یہ سفر بہت پہلے جنات کی تخلیق سے شروع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات بنائی اور اس کے انتظام (management) کے لیے فرشتوں کو پیدا کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اْس مخلوق کو پیدا کیا جس کو جن کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے، جن کی تخلیق آگ سے ہوئی (الحجر: 27) جن کو آگ سے پیدا کرنے کا مطلب غالباً یہ ہے کہ جن کی سرگرمیوں کا دائرہ سیاروں کی دنیا سے لے کر ستاروں کی دنیا تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں، بعد کو انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی (الأعراف: 21)۔ اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ انسان کی سرگرمیوں کا مرکز بنیادی طور پر سیارۂ زمین (planet earth) ہوگا۔
معرفتِ خداوندی کا حصول دراصل تخلیق میں چھپے ہوئے ربانی اسرار کی دریافت پر مبنی تھا۔ یہی دریافت وہ چیز ہے جو انسان کو خالق کا کائنات کا تعارف کراتی ہے۔ اِس سے بندہ اور خدا کے درمیان وہ اعلیٰ شعوری تعلق قائم ہوتا ہے جس کو معرفت کہا گیا ہے۔ دریافت کا یہی تاریخی عمل ہے جس کو ہم نے تہذیب (civilization) کا نام دیا ہے۔
اس تہذیبِ معرفت کو وجود میں لانے کا کام سب سے پہلے جن کے سپرد کیا گیا۔ مگر جیسا کی روایات میں آیا ہے، جن کے گروہوں نے آپس میں لڑائیاں کیں اور بہت زیادہ فساد برپا کیا۔ وہ تہذیب معرفت کا عمل شروع کرنے میں نا کام رہے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معزول کر دیا۔ اور ان کی جگہ انسان کو زمین پر بسایا گیا، تاکہ وہ تہذیب معرفت کو وجود میں لانے کا مطلوب عمل شروع کر سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues