وحدتِ وجود
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۳
وحدتِ وجود
شیخ محی الدین ابن العربی اندلس میں 560ھ میں پیدا ہوئے اور 638ھ میں دمشق میں وفات پائی۔ وہ صوفی کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ: كان ظاهريا في العبادات، باطنيا في الاعتقاد (وہ عبادات میں ظاہری تھے اور عقیدہ میں باطنی تھے)۔ ان کے بارے میں امام ذہبی نے لکھا ہے کہ ’’قدوة القائلین بوحدة الوجود‘‘ وہ وحدۃ الوجود کے ماننے والوں کے پیشوا ہیں۔ ابن العربی نے قرآن کی آیت: واعبد ربك حتى ياتيك اليقين (الحجر: 99) کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: حتى يأتيك حق اليقين، منتهى عباتك بانقضاء وجودك فيكون هذا العابد والمعبود جميعاً لا غير۔ یعنی یہاں تک کہ تجھے حق یقین حاصل ہو، اور تیرے وجود کے ختم ہونے سے تیری عبادت بھی ختم ہو جائے، پھر عابد و معبود سب ایک ہوں گے، غیر نہیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وحدۃ الوجود کا نظریہ کن بے بنیاد دلائل پر قائم کیا گیا ہے، قرآن کی آیت کی مذکورہ تفسیر جو ابن العربی نے کی ہے، وہ بلاشبہ ایک بے اصل تفسیر ہے، علمی اعتبار سے اُس کی کوئی حیثیت نہیں، یہ تفسیر بالرأی کی ایک بدترین قسم ہے۔ اس طرح کی تفسیر کو اگر درست سمجھا جائے تو اس سے ہر بات ثابت کی جاسکتی ہے، حتی کہ قرآن سے غیر قرآنی نظریہ بھی۔ وحدتِ وجود اصلاً ایک فلسفیانہ نظریہ ہے۔ فلسفیوں نے خدا اور موجودات کو ایک ثابت کرنے کے لئے وحدتِ وجود کا نظریہ پیش کیا۔ اس کو فلسفیانہ اصطلاح میں مانزم (Monism) کہا جاتا ہے۔ بعد کو یہ نظریہ آریئن مذاہب میں داخل ہو گیا۔ اس کے بعد اکثر مسلم صوفیاء نے اس کو اختیار کرتے ہوئے اسلام میں داخل کر دیا۔ شیخ احمد سرہندی بظاہر وحدتِ وجود کے خلاف تھے، مگر انھوں نے وحدتِ شہود کے نام سے جو نظریہ پیش کیا ہے، وہ بھی وحدتِ وجود ہی کی ایک بدلی ہوئی شکل ہے۔ جو لوگ اس قسم کی بات کرتے ہیں، ان کے بارے میں صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کو حقیقی معنوں میں اللہ کی معرفت حاصل نہیں ہوئی۔ اسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اس معاملے میں فلسفیانہ ماڈل سے متاثر ہو گئے، اور اسلام کی تشریح فلسفیانہ ماڈل کے مطابق کرنے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues