Al-Risala · September 2010 · page 22

ہدیہ: صرف -/25 روپے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۲

انسانوں کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ قیامت کے بعد کے دور میں تمام انسانوں کو اُن کے پچھلے ریکارڈ کے مطابق، آخرت کی دنیا میں آباد کیا جائے گا۔

قیامت سے پہلے کے دور میں معرفت کے حصول کا جو پراسس شروع ہوا، اس کی تکمیل آخرت کے دور میں انجام پائے گی۔ موجودہ دنیا میں معرفت کا حصول صرف زمان و مکان (space and time) کے اندر محدود طور پر انجام پا سکتا تھا۔ لیکن آخرت کی دنیا میں معرفت کا سفر زمان و مکان سے ماورا (beyond space and time) لامحدود طور پر انجام پائے گا۔ موجودہ دنیا میں یہ عمل صرف غیر معیاری (imperfect) درجے میں انجام پا سکتا تھا، آخرت کی دنیا میں یہ عمل معیاری (perfect) طور پر تکمیل کے درجے میں انجام پائے گا۔

معرفت کا حصول انسان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ اس سفر معرفت کا آغاز موجودہ دنیا میں ہوا، اس سفر معرفت کی تکمیل آخرت میں جنت کی دنیا میں انجام پائے گی۔ موجودہ دنیا میں انسان کو ہر چیز بقدر ضرورت دی گئی تھی (ابراہیم: 34)، آخرت کی جنت میں انسان کو تمام چیزیں بقدر اشتہاء دی جائیں گی (حم السجدة: 31)۔

اس جنت کی وسعت کو بتاتے ہوئے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وسارعوا إلى مغفرة من ربكم وجنة عرضها السموات والأرض، أعدت للمتقين (آل عمران: 133) یعنی دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اُس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ وہ تیار کی گئی ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے۔ (30 جنوری 2010) ہندی ترجمہ قرآن زیر نظر ترجمہ، ہندی زبان میں قرآن کا سلیس اور آسان ترجمہ ہے۔ عوام الناس کا خیال رکھتے ہوئے ہندی کے مشکل الفاظ سے اجتناب کیا گیا ہے۔

ہدیہ: صرف -/25 روپے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues

Printed page