Al-Risala · September 2010 · page 25

مہمان داری کلچر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۵

حقیقت یہ ہے کہ مہمان داری کلچر اپنے نتیجے کے اعتبار سے قاتل کلچر ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں علم اور دین کا چرچا ہو، جنت اور جہنم کی باتیں ہوں ، خدا کو زیادہ سے زیادہ یاد کیا جائے۔ لیکن مہمان داری کلچر نے ہمارے گھروں سے ان چیزوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔ یہ بلاشبہ سنت کے نام پر سنت کا قتل ہے۔

موجودہ مہمان داری کلچر کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ ہمارے گھر روحانیت کے بجائے مادیت کا کارخانہ بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے گھروں میں شیطانی ماحول ہے، نہ کہ ملکوتی ماحول۔ ہمارے گھروں میں خدا کا چرچا نہیں۔ ہمارے گھروں میں جنت اور جہنم کا تذکرہ نہیں۔ ہمارے گھروں میں قرآن اور حدیث کی خوشبو نہیں۔ ہر گھر بظاہر بھٹڑ بھاڑ کا گھر ہے، لیکن روحانی اعتبار سے ہر گھر ایک سونا قبرستان بنا ہوا ہے۔

مومن کا گھر وہ گھر ہے جہاں داخل ہونے کے بعد فرشتوں کی صحبت ملے، جہاں ایمان میں اضافے کا سامان ہو، جس کے اندر جینا ایمان میں ترقی کا سبب بنتا ہو۔ جہاں خدا اور رسول کی گونج سنائی دیتی ہو۔ ایسا ہی گھر دینی گھر ہے۔ جو گھر ایسا نہ ہو، وہ ایک شیطان خانہ ہے، نہ کہ ایمان خانہ۔

کہانیاں قرآن سے Kahaniyan Quran Se Zee Salaam Saturday 8.30 pm, Sunday 9.30 am Monday 4.00 pm, Friday 3.00 am (Zee Salaam is available on Dish TV and DTH, channel no. 786)

الرساله مشن سے وابستہ تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ اپناہی میل اور ٹیلی فون نمبر روانہ فرمائیں۔ ای میل یا فون نمبر کی تبدیلی کی صورت میں اس کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔ مطلوبہ تفصیل ایس ایم ایس (SMS) کے ذریعہ بھی روانہ کی جاسکتی ہے۔ مکمل ایڈریس کے بجائے خریداری نمبر کے ساتھ اپنے نام اور مقام (ضلع اور صوبہ) کی تعیین ضروری ہے: znadwi@yahoo.com Mob. 09910035369

‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues

Printed page