نیک وبد کی تمیز
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۶
نیک وبد کی تمیز
امریکا میں ایک انٹرنیشنل سائنسی ادارہ قائم ہے۔ اس ادارے کا مقصد بچوں کے معاملات کی سائنسی تحقیق کرنا ہے۔ اس ادارے کا نام یہ ہے:
Infant Cognition Center, Yale University, Connecticut. اس ادارے کے تحت حال میں ایک ریسرچ ہوئی ہے۔ یہ ریسرچ نفسیات کے پروفیسر پال بلوم (Paul Bloom) کی رہنمائی میں ہوئی ہے۔ اس ریسرچ کے نتائج اخبارات میں شائع ہوئے ہیں۔ اس کی تفصیل انٹرنیٹ پر دیکھی جاسکتی ہے۔ مقابل کے صفحے پر اس ریسرچ کا وہ خلاصہ شائع کیا جارہا ہے جو نئی دہلی کے انگریزی اخبارٹائمس آف انڈیا (11 مئی 2010) میں چھپا ہے۔ قدیم زمانے سے یہ تصور چلا آرہا تھا کہ انسان کی فطرت میں نیک اور بد کی تمیز موجود ہے۔ یہ بات قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان ہوئی ہے: فألهمها فجورها وتقواها (الشمس: 8)۔ موجودہ زمانے میں مغرب میں کچھ مفکرین پیدا ہوئے، جنھوں نے اس کے برعکس نظریہ پیش کیا۔ مثال کے طور پر سگمنڈ فرائڈ (وفات: 1939)، وغیرہ۔ ان لوگوں نے اپنے خودساختہ نفسیاتی مطالعہ کے حوالے سے بتایا کہ انسان کی فطرت پیدائشی طور پر ایک سادہ پلیٹ کی مانند ہوتی ہے۔ اس کے اندر کسی چیز کو اچھا اور کسی چیز کو برا سمجھنے کا کوئی شعور موجود نہیں ہوتا۔ اس قسم کا شعور تمام تر سماج کے اثر (social conditioning) سے پیدا ہوتا ہے۔ بیسویں صدی میں یہی نظریہ تعلیم یافتہ طبقے پر چھایا رہا۔ مگر اکیسویں صدی میں جونفسیاتی تحقیقات ہوئی ہیں، انھوں نے اس نظریے کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہے۔ کیوں کہ جب وہ کوئی خلاف عدل کام کرتا ہے تو وہ اپنے شعور فطرت سے انحراف کرکے ایسا کرتا ہے۔ اس تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا اخلاقی احساس اس کی داخل فطرت پر مبنی ہے، وہ محض خارجی اثرات کا نتیجہ نہیں— اس طرح اس معاملے میں مذہبی نقطہ نظر دوبارہ تاریخ میں واپس آگیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues