Save Pakistan to Save us All
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۰
یہ سوچ میرے ذہن میں ایک متبادل عنوان آیا جوکہ یہ تھا:
Accept the principle of bossism to save the world. قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر گھر میں ایک قوام (النساء: 34) ہونا چاہئے۔ قوام سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں باس (boss) کہا جاتا ہے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، موجودہ دنیا کا نظام قوامیت (bossism) کے اصول پر قائم کیا گیا ہے۔ گھر کا قوام، کمپنی کا قوام، سماج کا قوام، یہاں تک کہ قوموں کا قوام۔ جہاں قوام نہ ہو، وہاں نظم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس معاملے میں ہمارے لیے جو انتخاب ہے، وہ قوام (boss) اور بے قوام (no-boss) کے درمیان نہیں ہے، بلکہ قوام اور انارکی (anarchy) کے درمیان ہے۔ جہاں قوام نہ ہوگا، وہاں انارکی ہوگی، نہ کہ سادہ طور پر صرف بے قوامی کی حالت۔ معیار پسند (idealist) افراد یقیناً اس سے اختلاف کریں گے۔ لیکن یہ مسئلہ نظریاتی اختلاف کا نہیں ہے، بلکہ عملی امکان کا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، اس معاملے میں ہمارے لیے کوئی اور انتخاب نہیں۔ حقیقت پسندی (realism) کا تقاضا ہے کہ ہم قوامیت (bossism) کے اصول کو فطرت کے ایک قانون کے طور پر مان لیں۔ عملی اعتبار سے اس معاملے میں ہمارے لیے کوئی دوسرا انتخاب (choice) سرے سے ممکن نہیں۔
اجتماعی زندگی میں کسی کو قوام ماننے کے بھی بعض مائنس پوائنٹ ہیں، مگر یہ مائنس پوائنٹ چھوٹے شر (lesser evil) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فطرت کا یہ بھی ایک لازمی قانون ہے کہ اگر ہم چھوٹی برائی کو نہ مانیں، تو ہم کو بڑے شر (greater evil) کو ماننا پڑتا ہے۔ اس معاملے میں ہمارے لیے دانش مندی یہ ہے کہ ہم چھوٹی برائی کو مان لیں، تا کہ ہم کو بڑی برائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس اعتبار سے تاریخ کا ایک جائزہ لیجئے۔ ساتویں صدی عیسوی سے پہلے دنیا کے بڑے حصے پر رومن ایمپائر قائم تھا۔ یہ رومن ایمپائر اس وقت کا سپر پاور تھا۔ اصول عام کے مطابق، رومن ایمپائر میں کئی کمیاں تھیں، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رومن ایمپائر کے دبدبے سے دنیا میں امن کا ماحول قائم تھا۔ مورخین اس کو پیکس رومانا (Pax Romana) کہتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues