Al-Risala · September 2010 · page 31

The Sun never sets on British Empire.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۱

ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی دور آیا۔ اس کے بعد دنیا کے بڑے حصے میں مسلم ایمپائر قائم ہوگیا۔ اس دور میں بھی بعض کمیاں تھیں لیکن اسی کے ساتھ اس کا یہ فائدہ بھی تھا کہ اس کے دببے کے تحت، دنیا میں امن قائم ہوگیا۔ اس کو پیکس اسلامکا (Pax Islamica) کہا جاسکتا ہے۔ اس دور کا ایک علامتی واقعہ یہ ہے کہ عباسی خلافت کے زمانے میں ایک بار ایک سرحدی مقام کے لوگوں میں مرکز سے بغاو ت کا رجحان پیدا ہوا۔ اس موقع پر خلیفہ نے بغاوت کو فرو کرنے کے لیے ایک فوج بھیجنا چاہی۔ لیکن خلیفہ کے وزیر نے کہا کہ آپ فوج نہ بھیجیں، بلکہ دھمکی کا ایک خط (warning letter) بھیج دیں، وہی بغاوت کو فرو کرنے کے لیے کافی ہو جائے گا۔ چناں چہ خلیفہ نے اس قسم کا ایک خط باغی لیڈر کے پاس بھیجا اور بغاوت ختم ہوگئی۔ اس واقعے پر ایک عرب شاعر نے یہ شعر کہا کہ۔ جہاں دوسرے لوگ دشمنوں کے خلاف فوج بھیجتے ہیں، وہاں ہم صرف ایک خط بھیج دیتے ہیں: إذا ما أرسل الأمراء جيشاً إلى الأعداء، أرسلنا الكتابا اٹھارھویں صدی عیسوی کے بعد وہ دور آیا، جب کہ برطانیہ سپر پاور بن گیا۔ برطانوی اقتدار اتنا وسیع تھا کہ یہ کہا جانے لگا کہ اُس میں سورج نہیں ڈوبتا:

The Sun never sets on British Empire.

بیسویں صدی عیسوی کے وسط تک برطانیہ دنیا کا قوام (international boss) بنا رہا۔ بعض کمیوں کے باوجود اس دور میں عمومی سطح پر امن قائم تھا۔ اس امن کو مورخین کے یہاں پیکس برٹانکا (Pax Britannica) کہا جاتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد ایٹمی طاقت کا دور آیا۔ اب امریکا کو دنیا میں سپر پاور کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ جغرافی اعتبار سے اگر چہ امریکا کے زیر اقتدار رقبہ بہت زیادہ بڑا رقبہ نہ تھا۔ لیکن جدید ترقیاتی ذرائع نے امریکا کو یہ موقع دیا کہ وہ بیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں دنیا کا قوام بن سکے۔ یہی وہ دور ہے جب کہ 1962 میں سوویت روس نے کیوبا (Cuba) میں اپنا میزائل اڈہ بنانے کی کوشش کی۔ اُس وقت امریکا کے صدر جان ایف کینڈی (missile installation)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues

Printed page