Al-Risala · September 2010 · page 33

امن اور انصاف

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۳

امن اور انصاف

12-11 اپریل 2010 کوئی دہلی میں ایک انٹرنیشنل سیمینار ہوا۔ اس سیمینار کا انتظام حسب ذیل تین تنظیموں کے اشتراک سے کیا گیا تھا:

Indo-Iran society, New Delhi. World Peace Forum, Tehran. Iran Culture House, New Delhi ۔ Justice, Peace: A Common Universal Discourse:اس سیمینار کا موضوع یہ تھا دو دن کے اس سیمینار میں 40 مقالات پیش کئے گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ، اس سیمینار میں جو باتیں کہی گئیں ، ان کا خلاصہ یہ تھا— امن اور انصاف دونوں ایک ساتھ پائے جاتے ہیں۔ انصاف، امن کی شرط ہے۔ جب تک انصاف قائم نہ ہو، امن کا قیام نہیں ہوسکتا:

Peace and justice both go hand in hand with each other, justice is the pretext of the peace, unless justice is established, peace can not be restored or implemented. یہ اُسی قدیم نظریے کا اعادہ ہے جس کو مسلمان لمبی مدت سے پیش کرتے رہے ہیں۔ اس کو عرب مسلمان ”السلام مع العدل“ (peace with justice) کہتے ہیں، یعنی تم ہم کو انصاف دو، پھر ہم تم کو امن دیں گے۔

یہ بلا شبہ ایک غیر فطری اور غیر شرعی نظریہ ہے۔ اسی لیے یہ نظریہ عملاً کبھی کامیاب نہ ہوسکا۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ڈی لنکنگ پالیسی (de-linking policy) اختیار کی جائے، یعنی انصاف کے سوال کو امن کے سوال سے الگ کر دینا۔ پہلے یہ کیا جائے کہ مصالحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے امن قائم کیا جائے ۔ جب امن قائم ہوگا تو مواقع (opportunities) کھلیں گے اور پھر مواقع کو استعمال (avail) کر کے انصاف کو حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ انصاف براہِ راست طور پر امن کا حصہ نہیں ہے، بلکہ وہ استعمال مواقع کا حصہ ہے۔ یہی اس معاملے میں دانش مندی کی بات ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے تمام رہنما اور دانش ور اس دانش مندی سے کامل طور پر بے خبر ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues

Printed page