Al-Risala · September 2010 · page 34

ذہنی تفریح یا ایمانی غذا

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۴

ذہنی تفریح یا ایمانی غذا

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے میں الرسالہ پڑھتا تھا۔ اُس سے مجھے ایمانی غذا ملتی تھی ،مگر اب کچھ عرصے سے وہ میرے مطالعے میں نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا کوئی خاص سبب نہیں۔ غالباً میرا از رِ تعاون ختم ہو گیا اور دفتر والوں نے اس کو میرے نام بھیجنا بند کردیا۔ اس کے بعد میں دوبارہ اس کی خریداری کی تجدید نہ کراسکا۔

اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں میرے علم میں آئی ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر سچ مچ کسی کے لیے الرسالہ اس کی‘‘ ایمانی غذا ‘‘بن چکا ہو، تو وہ ہرگز اس کا تحمّل نہیں کرسکتا کہ وہ ایک مہینہ بھی الرسالہ کے مطالعے سے محروم رہے۔ جو چیز آدمی کے لیے غذا کا درجہ حاصل کرلے، وہ اس کو چھوڑنے کا تحمّل نہیں کرسکتا، خواہ یہ غذا آکسیجن کی طرح مادی ہو، یا الرسالہ کی طرح ایمانی۔ غذا ہمیشہ موت کے ساتھ ترک ہوتی ہے، کوئی شخص حالت زیست میں غذا کو ترک کرنے کا تحمّل نہیں کرسکتا۔ غور کرنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ یہ لوگ اگر چہ ’’ایمانی غذا‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، مگر اس سے ان کی مراد ایک قسم کی ذہنی تفریح (intellectual luxury) ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ الرسالہ میں، دوسرے جرائد کے مقابلے میں، مواد اور اسلوب کے اعتبار سے ایک نیاپن ہوتا ہے۔ یہ نیا پن قارئین کو متاثر کرتا ہے۔ لیکن اس قسم کے لوگ الرسالہ کے اصل قاری نہیں۔ الرسالہ کا اصل قاری وہ ہے جس کا مائنڈ سیٹ (mindset) الرسالہ کے مطالعے سے پوری طرح بدل گیا ہو، جو روایتی خول سے باہر آکر الرسالہ کو سمجھ سکے، جو الرسالہ میں اپنے رہی ایمان کو زندہ ایمان میں تبدیل کرنے کا راز پالے، جس کو الرسالہ کے مطالعے کے دوران خدا کی قربت کا تجربہ ہونے لگے، جس کے لیے الرسالہ حقیقتِ اعلیٰ کی شعوری دریافت کا ذریعہ بن جائے، جس نے الرسالہ کے دعوتی مشن کو اپنی زندگی کا واحد مشن بنا لیا ہو، جس کے لیے الرسالہ کا مطالعہ مثبت شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بن گیا ہو۔ جو لوگ الرسالہ کو جنت کی گائیڈ بک اور معرفت الہیٰ کے خزانے کی حیثیت سے دریافت کریں، وہی الرسالہ کے اصل قاری ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues

Printed page