ایک عمومی مسئلہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۱
جواب
آپ نے قرآن کے حوالے سے دو سوالات کیے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ نے قرآن کے جو حوالے دئے ہیں، ان حوالوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورت کا درجہ مرد کے مقابلے میں کم ہے۔ اس طرح ان حوالوں کا یہ مطلب بھی نہیں کہ عورت کا ایمان مرد کے ایمان کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ آپ کے ان دونوں سوالوں کی یہاں وضاحت کی جاتی ہے۔
1۔ قرآن کی سورہ الطور اور سورہ النجم میں جو بات کہی گئی ہے، وہ مشرکین کے اپنے عقیدے کی نسبت سے ہے، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کی نسبت سے۔ ان آیتوں میں ایک سادہ منطق (simple logic) کے ذریعے مشرکین کے عقیدے کی تردید کی گئی ہے۔ مشرکین اپنے تصور کے مطابق، بیٹے کی پیدائش پر خوش ہوتے تھے اور بیٹی پیدا ہونے پر افسردہ ہوجاتے تھے۔ (النّحل: 58)، پھر یہی لوگ یہ مانتے تھے کہ فرشتے، خدا کی بیٹیاں ہیں (الزخرف: 19)۔
اس کو لے کر کہا گیا کہ تم خود اپنے تصور کے مطابق، غیر سنجیدہ ثابت ہو رہے ہو۔ اگر تم اس معاملے میں سنجیدہ ہوتے تو تم ایسا کبھی نہ کہتے، کیوں کہ خدا بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، پھر ایسا کیوں کر ممکن تھا کہ خالق اپنی مخلوق کے لیے تو تمھارے تصور کے مطابق، بیٹیاں اور خود اپنے لیے بیٹی کا انتخاب کرے جس کی حیثیت تمھارے نزدیک کم تر ہے۔ قرآن کی یہ آیتیں اس معاملے میں بیانِ واقعہ نہیں ہیں، بلکہ اس میں الزامی جواب کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے، یعنی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues