Al-Risala · September 2010 · page 42

ایک عمومی مسئلہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۲

مخاطب کے اپنے ماننے ہوئے عقیدے کی بنیاد پر اس کی تردید کرنا۔

جہاں تک عورت اور مرد کے درجے کا تعلق ہے، اس کا بیان قرآن کی سورۂ آل عمران میں آیا ہے ۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: بعضكم من بعض:

You are members, one of another (3:195)

2 - آپ کا دوسرا سوال عورت کی گواہی کے بارے میں ہے۔ اس کا بیان قرآن کی سورۂ البقرہ کی آیت نمبر 282 میں آیا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں عورت اور مرد کی گواہی کے درمیان جو فرق کیا گیا ہے، وہ امتیاز (discrimination) کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ وہ ایک فطری حقیقت کی بنا پر ہے۔ اصل یہ ہے کہ عورت اور مرد درجے کے اعتبار سے، پوری طرح مساوی ہیں، لیکن زندگی میں رول کے درمیان دونوں کے درمیان فرق ہے۔ اِسی مختلف رول (different role) کی بنا پر عورت اور مرد دونوں کی صلاحیتوں میں فرق رکھا گیا ہے۔

حیاتیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ عورت اور مرد کے دماغ کی بناوٹ ایک نہیں ہے، بلکہ دونوں میں فرق ہے، وہ یہ کہ عورت کا دماغ متعدد فرخی (multi focussed) دماغ ہے۔ اس کے مقابلے میں، مرد کا دماغ واحد رخی (single focussed) ہے۔ یہ فرق روز مرہ کی زندگی کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن جب کوئی اتفاقی واقعہ پیش آئے تو وہاں یہ امکان رہتا ہے کہ مرد اپنی دماغی بناوٹ کے تحت مذکورہ واقعے کو پورے ارتکاز (concentration) کے ساتھ دیکھ سکے۔ اس کے مقابلے میں عورت کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذہنی بناوٹ کی بنا پر واقعے کو غیر ترکيزى انداز میں دیکھے، اس کا ذہن واقعے کے کسی جز کوریکارڈ کرے اور اس کے کسی دوسرے جز کوریکارڈ نہ کر سکے۔ اسی لیے عورت کی گواہی کی صورت میں دو عورتوں کی شرط رکھی گئی، تا کہ قرآن کے الفاظ میں، ایک عورت اگر بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا دے : أن تضل إحداهما فذكر إحداهما الأخرى:

So that if one of the two women should forget, the other can remind her. (2:282)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues

Printed page