جنوبی ہند کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۵۱
جنوبی ہند کا سفر
جنوبی ہند میں ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے جو جامعہ دارالسلام، عمر آباد (تمل ناڈو) کے نام سے مشہور ہے۔ وہ ابتدائی طور پر 1924 میں قائم ہوا اور اب وہ ایک بڑا تعلیمی مرکز بن چکا ہے۔ وہ انڈیا کے چند بڑے اسلامی مدارس میں سے ایک ہے۔ اس ادارے کی دعوت پر جنوبی ہند کا سفر ہوا۔ 7 جون 2010 کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی، اور 11 جون 2010 کی شام کو دوبارہ دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ اس سفر میں مولانا محمد ذکوان ندوی میرے ساتھ تھے۔
اس سفر کے لیے ہمارا آررویشنگ جیٹ ایروویز سے تھا۔ دہلی کا ائر پورٹ دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے۔ نیا ائر پورٹ ترقی یافتہ ملکوں کے معیار پر بنا ہے۔ ائر پورٹ پر بدستور لوگوں کی بھیڑ نظر آئی۔ یہاں کئی لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ لوگوں نے اس کو بڑے شوق سے لیا۔ موجودہ زمانے کے نئے مظاہر میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ اسلام کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ میڈیا میں بار بار اسلام کی نسبت سے کچھ نہ کچھ خبریں آتی رہتی ہیں۔ اس سے لوگوں کے اندر تجسس (curiosity) پیدا ہوا ہے۔ وہ اسلام کے بارہ میں مزید جاننا چاہتے ہیں۔
ائر پورٹ کے اندر لوگ تیزی سے ادھر اُدھر چل رہے تھے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل تھا اور وہ کان پر موبائل رکھے ہوئے اپنے عزیزوں اور رشتے داروں سے بات کر رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ ہر ایک، انسان سے باخبر ہے، لیکن کوئی بھی خدا سے باخبر نہیں۔ وہ خدا جس نے اُس کو پیدا کیا، وہ خدا جس نے دنیا میں ایسے اسباب رکھے جن کے ذریعے موبائل اور ہوائی جہاز جیسی چیزیں بنانا ممکن ہوا۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو مخلوق سے باخبر ہیں، لیکن اُنھیں خالق (Creator) کی کوئی خبر نہیں۔ 7 جون 2010 کو ہمیں جس فلائٹ (Jet Airways Konnect-9W2255) سے مدراس (چینئی) کے لیے روانہ ہونا تھا، اس کا مقرر وقت صبح ساڑھے دس بجے تھا۔ مگر جہاز ایک گھنٹہ لیٹ ہو کر روانہ ہوا۔ اگلے دن کے اخبار سے معلوم ہوا کہ اس کا سبب یہ تھا کہ انڈین پرائم منسٹر من موہن سنگھ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues