Al-Risala · October 2010 · page 3

جنوبی ہند کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳

اسی صبح دہلی سے سری نگر (کشمیر) جانے والے تھے۔ اس بنا پر 50 فلائٹس دیر سے روانہ ہوئیں اور دہلی آنے والی فلائٹس کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دہلی اترنے کے بجائے جے پور (راجستھان) چلی جائیں۔ اوقات میں اس تبدیلی کی بنا پر ہزاروں مسافروں نیز ایئر پورٹ کے عملہ کو سخت پریشانی ہوئی۔ یہ سب پیشگی اطلاع کے بغیر کیا گیا۔ ہندوستان ٹائمنر (8 جون 2010) کی رپورٹ کے مطابق، ایئر پورٹ کے ایک آفیسر نے کہا کہ ان تبدیلیوں کے بارے میں ہم کو پیشگی طور پر کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی: دہلی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اسی قسم کا واقعہ 26 مئی 2010 کو ہوا تھا، جب کہ موجودہ انڈین صدر جمہوریہ مسز پرتبھا پاٹل کو اسپیشل جہاز سے چین کے سفر پر روانہ ہونا تھا۔ سیاسی عہدے داروں کی طرف سے اس قسم کی بد نظمی کے واقعات بار بار ہوتے رہتے ہیں۔ اُن کو دیکھ کر مجھے یہ حدیثِ رسول یاد آتی ہے: إذا وُسِّد الأمر إلى غير أهله فانتظروا الساعة (صحيح البخاري، كتاب العلم) یعنی جب نا اہل لوگ عہدے دار بنائے جانے لگیں، تو قیامت کا انتظار کرو۔ پرواز کے دوران جیٹ ایئر کی فلائٹ میگزین (Jet Wings) کا شمارہ جون 2010 دیکھا۔ اس شمارے میں زیادہ تراشتہار ات تھے۔ ایک مضمون کا عنوان یہ تھا:

اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ ویتنام جنگ (Vietnam War) کے بعد امریکا میں مایوسی کا ایک دور آیا۔ بہت سے نوجوان ہیپی (Hippie) بن گئے۔ اُنھیں میں سے شکاگو کا ایک امریکی نوجوان رچرڈ سلاون (Richard Slavin) تھا۔ ویتنام جنگ (1960-1973) کے بعد وہ روحانیت کی تلاش میں امریکا سے نکلا۔ مختلف ملکوں کا سفر کرتے ہوئے وہ انڈیا پہنچا۔ یہاں اس نے بہت سے سوامی لوگوں سے ملاقات کی۔ وہ بھکتی یوگا سے متاثر ہوا۔ اُس نے غاروں اور جنگلوں میں دھیان گیان کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page