جنوبی ہند کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۵
ترجمہ جہاز کے کیپٹن (M Laurens) کو دیں۔ وہ کیبن کے پاس پہنچے تو سب سے پہلے کوپائلٹ (co-pilot) سے ملاقات ہوئی۔ ان کا نام مسٹر شجاع الدین تھا۔ ہمارے ساتھی نے انگریزی ترجمہ کی دو کاپی ان کو دی اور کہا کہ ایک کاپی آپ اپنے پاس رکھیں اور ایک کاپی پائلٹ کو دے دیجئے۔ انھوں نے تعجب کے ساتھ کہا کہ: وہ تو کرسچن (مسیحی) ہیں۔ مختصر گفتگو کے بعد وہ راضی ہوئے کہ قرآن کا یہ نسخہ وہ جہاز کے کیپٹن مسٹر لارینس تک پہنچادیں گے۔
یہی موجودہ زمانے میں تقریباً تمام مسلمانوں کی سوچ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن ان کی اپنی کتاب ہے۔ اگر قرآن، غیر مسلموں کو دیا گیا تو وہ اس کی بے حرمتی کریں گے۔ " بے حرمتی" کے اس تصور کا نتیجہ ہے کہ پرنٹنگ پریس کے پورے دور میں قرآن عملاً صرف مسلمانوں کی کتاب بنا رہا، وہ غیر مسلموں تک بہت کم پہنچ سکا۔
ائیر پورٹ کے عملہ میں مدراس کے ایک صاحب انجینئر محمد آزاد جہاز سے اترتے ہی مل گئے۔ انھوں نے سہولت ائیر پورٹ کی تمام کارروائی مکمل کر دی۔ ہم لوگ ائیر پورٹ سے باہر نکلے تو وہاں جامعہ دارالسلام کی طرف سے مولانا فیاض الدین عمری اور مولانا سید اقبال احمد عمری اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے۔ مدراس سے جامعہ دارالسلام 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ سفر بذریعہ کار طے ہوا۔ روڈ بہت اچھی تھی۔ یہ وہی روڈ ہے جس کو نیشنل ہائی وے (نمبر 46) کہا جاتا ہے۔ اس ہائی وے کو ایک مسلم بلڈر نے بنایا ہے۔
ہماری کار کے ڈرائیور مسٹر مورتی (44 سال) تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ 30 سال سے ڈرائیونگ کا کام کر رہے ہیں، مگر اُن کے ساتھ کبھی روڈ ایکسیڈنٹ کا معاملہ پیش نہیں آیا۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ ڈرائیونگ کے لیے ان کا سادہ فارمولا یہ ہے۔ پہلے سیفٹی پھر اسپیڈ۔ یہ فارمولا صرف کامیاب ڈرائیونگ کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس فارمولے کی یکساں اہمیت کامیاب قیادت کے لیے بھی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم قائدین نے مسلم ملت کو ہر جگہ صرف تباہی سے دوچار کیا ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ وہ مذکورہ ڈرائیور کی طرح قیادت کا کامیاب فارمولا دریافت نہ کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues