Al-Risala · October 2010 · page 4

جنوبی ہند کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴

اس نے اپنا نام بدل کر رادھاناتھ سوامی (Radhanath Swami) رکھالیا۔ اس نے اپنے تجربات پر مشتمل انگریزی زبان میں ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے:

The Journey Home-Autobiography of an American Swami تبصرہ نگار (Maria De Luca) کے مطابق، اُس کو وہ سکون نہ مل سکا جس کی تلاش میں وہ امریکا سے نکلا تھا۔ چناں چہ آج کل مذکورہ نوجوان کمیونٹی سروس میں مشغول ہے۔ تبصرہ نگار نے لکھا ہے کہ۔ یہ کتاب گویا کہ مصنف کے ذاتی کنفیوژن کی ایک دیانت دارانہ یادداشت ہے: The book is an honest memoir of his personal confusion اس قسم کے ہزاروں لوگ ہیں جنھوں نے آشرام میں یا پہاڑوں اور جنگلوں میں میڈیٹیشن (meditation) کے ذریعے ذہنی سکون حاصل کرنا چاہا، مگر اُن کو ذہنی سکون نہیں ملا۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی سکون کا راز میڈیٹیشن نہیں ہے، بلکہ مثبت فکر کی بنیاد پر ذہن کی تشکیل نو (re-engineering) ہے۔ مگر ار باب خانقاہ اور ارباب آشرام دونوں ہی اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔ دہلی ایئر پورٹ سے جہاز روانہ ہوا تو فضا میں کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ پھر جب وہ اوپر اٹھ کر 35 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچاتو کالے بادل جہاز کے نیچے جاچکے تھے اور فضا میں ہر طرف روشن سورج چمک رہا تھا۔ یہ گویا اس بات کا ایک تمثیلی مظاہرہ تھا کہ اگر انسان مادی اندھیروں سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے تو وہ دیکھے گا کہ ہر طرف سچائی کی روشنی پھیلی ہوئی ہے۔

جہاز کے مسافروں میں کئی لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ انھوں نے اس کو اس شوق سے لیا جیسے کہ وہ پہلے سے اُس کے منتظر تھے۔ ان میں سے دو لوگوں کے نام یہ ہیں: Dr. A K Shukla, Dept. of Chemistry, SPM Govt College, Allahahbad, U.P. Dr. MS Mittri (German) Director Multinational Company, Chennai دہلی سے مدراس کی دوری ایک ہزار سات سو کلومیٹر (1,700 km) ہے۔ یہ سفر تقریباً ڈھائی گھنٹے میں طے ہوا۔ مدراس ایئر پورٹ پر اترتے ہوئے میرے ساتھی نے چاہا کہ وہ قرآن کا

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page